رسائی کے لنکس

logo-print

آسیہ بی بی کی اپیل عدالت عظمٰی میں سماعت کے لیے منظور


توہین مذہب کے مقدمے میں آسیہ بی بی کو ایک ذیلی عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزائے موت کو لاہور ہائی کورٹ نے برقرار رکھا تھا۔

پاکستان کی عدالت عظمٰی نے توہین مذہب کے ایک مقدمے میں سزا یافتہ مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اُن کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

توہین مذہب کے مقدمے میں آسیہ بی بی کو ایک ذیلی عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزائے موت کو لاہور ہائی کورٹ نے برقرار رکھا تھا۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے اس مقدمے کی سماعت بدھ کو لاہور کی رجسٹری برانچ میں کی۔

آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے اپنی موکلہ کی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے اس معاملے کے تمام پہلوؤں کا احسن طریقے سے جائزہ نہیں لیا اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے۔

وکیل سیف الملوک کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ پانچ روز کی تاخیر سے پولیس تھانے میں درج کروایا گیا، جس سے اس بارے میں ابہام نے جنم لیا۔

اُنھوں سپریم کورٹ کے بینچ سے استدعا کی وہ اس مقدمے سے جڑے تمام پہلوؤں کا ازسر نو تفصیلی جائزہ لے۔

سپریم کورٹ کے بینچ نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد آسیہ بی بی کی درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اُن کی سزائے موت پر عمل درآمد معطل کر دیا۔

لاہور ہائی کورٹ نے 2014ء میں آسیہ بی بی کی طرف سے اپنی سزائے موت کے خلاف دائر کردہ اپیل کو خارج کر دیا تھا۔ عدالت عالیہ کے دو رکنی بینچ نے ذیلی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کو برقرار رکھا تھا۔

آسیہ بی بی کے خلاف 2009ء میں توہین رسالت کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا اور سب سے پہلے صوبہ پنجاب کے ضلع ننکانہ کی عدالت نے اُنھیں 2010ء میں موت کی سزا سنائی تھی۔

آسیہ بی بی پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے علاقے میں کھیتوں میں کام کرتے ہوئے وہاں موجود دیگر خواتین کے ساتھ ہونے والی ایک بحث میں پیغمبر اسلام کی توہین کی۔

اُن کی سزا کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب اُس وقت کے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے آسیہ بی بی سے جیل میں ملاقات کی اور یہ بیان بھی دیا کہ توہین رسالت کے قانون میں ترمیم ہونی چاہیئے۔

سلمان تاثیر کو جنوری 2011ء کو اسلام آباد میں ان ہی کے ایک سرکاری محافظ، پولیس اہلکار ممتاز قادری نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

ممتاز قادری کا کہنا تھا کہ اس نے توہین مذہب سے متعلق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیان پر اُنھیں قتل کیا۔

XS
SM
MD
LG