رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی عرب اور ایران کے ساتھ تعلقات پاکستان کے لیے اہم ہیں: خرم دستگیر


فائل فوٹو

پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے سعودی عرب اور ایران کے ساتھ تاریخی تعلقات اسلام آباد کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں تاہم ان کے بقول ان تعلقات کی نوعیت مختلف ہے۔

خرم دستگیر نے یہ بات جمعرات کے روز اسلام آباد میں ایک سیمینار میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

اس سیمینار کا انعقاد اسلام آباد میں قائم اسٹریٹیجک ویژن انسٹیٹیوٹ نے کیا تھا جس کا موضوع تھا پاکستان ،سعودی عرب اور ایران کے عصری تعلقات۔

سرکاری میڈیا کے مطابق وزیر دفاع نے کہا کہ اقتصادی اور دفاعی شعبوں میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہت گہرے ہوئے ہیں جبکہ ایران کے ساتھ پاکستان انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں تعاون کر رہا ہے۔

پاکستانی وزیر دفاع کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے پاکستانی فوج کی طرف سے مزید فوجی دستے سعودی عرب بھیجنے کے بیان پر پاکستان کی پارلیمان اور دیگر حلقوں کی طرف سے ان خدشات کا اظہار کیا گیا کہ اس اقدام کی وجہ سے سعودی عرب کے حریف ملک ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ پاکستان یہ کہ چکا ہے کہ یہ دستے سعودی عرب سے باہر تعینات نہیں ہوں گے اور ان کا مقصد سعودی فورسز کو تربیت فراہم کرنا ہے اور ان دستوں کو سعودی عرب سے باہر تعینات نہیں کیا جائے گا۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان وزیر دفاع کا بیان ان خدشات کو دور کرنے کی کوشش ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار رسول بخش رئیس نے جمعرات کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب اور ایران کے کسی باہمی تنازع کا حصہ نہیں بنے گا۔

اگرچہ پاکستان کے تاریخی طور پر سعودی عرب کے ساتھ نہایت قریبی تعلقات رہے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ اس کے اثرات اس کے ہمسایہ ملک ایران کے تعلقات پر منفی انداز میں اثرانداز نہ ہوں۔ لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ ریاض اور تہران کے ساتھ اپنے تعلقات میں توزان رکھنا اسلام آباد کے لیے ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG