رسائی کے لنکس

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ’’ہمیں پختہ یقین ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان قریبی تعاون کا جاری رہنا خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے اہم ہے

پاکستان کی طرف سے ان اطلاعات پر تو باضابطہ طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا کہ امریکی انتظامیہ پاکستان سے متعلق اپنی پالیسی میں سخت روی اختیار کرنے پر غور کر رہی ہے، تاکہ پاکستان میں مبینہ طور پر موجود عسکریت پسندوں کو سرحد پار افغانستان میں کارروائیاں کرنے سے روکا جا سکے۔

تاہم، پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، جو، ان کے بقول، ’’دیرینہ اور کثیر الجہتی‘‘ ہیں۔

نفیس ذکریا نے کہا کہ ’’ہمیں پختہ یقین ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان قریبی تعاون کا جاری رہنا خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے اہم ہے۔

واضح رہے کہ خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے بعض امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان سے متعلق امریکی پالیسی پر نظرِ ثانی کرنے اور مزید سخت رویہ اختیار کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ڈرون حملوں میں اضافہ کرنے اور امداد میں کمی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

'رائٹرز' کے مطابق، امریکی پالیسی میں تبدیلی کا مقصد پاکستان کو ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی پر مجبور کرنا ہے جن کے ٹھکانے مبینہ طور پر پاکستان میں ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے حکومت کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ تمام دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی جا رہی ہے اور ایسا، ان کے بقول، قومی مفاد مین کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔

نفیس ذکریا نے کہا کہ ڈرون حملے پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہیں، اور ان کے بقول، ایسی کارروائیاں "ناقابل قبول" ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوبی ضلع ہنگو میں ایک امریکی ڈرون حملے میں اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے دھڑے حقانی نیٹ ورک کا ایک عسکریت پسند مارا گیا تھا۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ نے ایک بیان کہا تھا کہ ڈرون حملوں جیسے یک طرفہ اقدامات کسی طور سود مند نہیں ہیں اور یہ تعاون اور انٹیلی جنس کے تبادلے کے جذبے کے منافی ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں افغانستان میں ہونے والے مختلف دہشت گرد حملوں کے بعد افغان حکام نے بھی ایسے الزمات عائد کیے تھے کہ ان واقعات میں وہ عسکریت پسند ملوث ہیں جنہیں پاکستان کے انٹلی جنس اداروں کی حمایت حاصل ہے

افغان حکومت کا یہ موقف رہا ہے کہ ’حقانی نیٹ ورک‘ سے منسلک عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان میں موجود ہیں جہاں سے یہ گروپ سرحد پار دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔

پاکستانی عہدیدار تواتر کے ساتھ ایسے الزمات کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ حقانی نیٹ ورک سمیت تمام دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو شمالی وزیرستان میں تباہ کر دیا گیا ہے۔

تاہم، امریکہ کی طرف سے پاکستان کے ان دعوؤں سے متعلق سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں اور اسی پس منظر میں حال ہی میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ پاکستان سے متعلق اپنے طرز عمل کو سخت کرنے پر غور کر رہی ہے۔

تاہم ،امریکی حکومت کی طرف سے ایسی خبروں کی تصدیق نہیں کی گئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG