رسائی کے لنکس

logo-print

اسلام آباد میں ’اے آر وائی‘ نیوز کے دفتر پر دستی بم حملہ


دفتر میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے گھسنے کی کوشش کی اور جب وہاں موجود محافظ نے انھیں روکا تو وہ دستی بم پھینک کر اور فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ٹی وی نیوز چینل "اے آر وائی" کے دفتر پر کریکر بم حملے میں ایک رکن زخمی ہو گیا ہے۔

چینل انتظامیہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ بدھ کی شام اسلام آباد کے ایک پوش علاقے میں واقع چینل کے دفتر میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے گھسنے کی کوشش کی اور جب وہاں موجود محافظ نے انھیں روکا تو وہ دستی بم پھینک کر فرار ہو گئے۔

دفتر کی حفاظت پر مامور محمد اشرف نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ موٹر سائیکل پر سوار دونوں افراد نے نقاب پہن رکھے تھے۔

وزیراعظم نواز شریف نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر اس میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے جب کہ صحافتی تنظیموں کی طرف سے بھی واقعے کی مذمت کے علاوہ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ملک میں صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدام کرے۔

چینل انتظامیہ کے مطابق حملہ آور فرار ہوتے ہوئے دھمکی آمیز پمفلٹ بھی پھینک گئے جس پر ’داعش خراسان‘ کی طرف سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

پاکستان میں اس سے قبل بھی صحافیوں اور صحافتی اداروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے لیکن اسلام آباد میں اس نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

گزشتہ دسمبر میں فیصل آباد میں نجی ٹی وی چینل "دنیا نیوز" کے دفتر پر بھی ایسا ہی ایک حملہ ہوا تھا جس میں ادارے کے تین ارکان زخمی ہوگئے تھے۔

پاکستان کا شمار صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ملکوں میں ہوتا ہے اور صحافتی تنظیموں کے مطابق اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران صحافیوں کو ریاستی اداروں کے علاوہ دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی طرف سے بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے ’اے آر وائی‘ نیوز سے بات کرتے ہوئے یقین دلایا کہ اس حملے میں ملوث عناصر کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا اور اس طرح کے دہشت گرد واقعات سے شدت پسندوں کے خلاف حکومتی عزم کمزور نہیں ہو گا۔

XS
SM
MD
LG