رسائی کے لنکس

پاکستان داعش کے خطرے سے آگاہ ہے: تسنیم اسلم


ترجمان تسنیم اسلم
ترجمان تسنیم اسلم

وزیراعظم نواز شریف کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف حکومت کے عزم کو غیر سنجیدگی سے نا لیا جائے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ شدت پسند تنظیم داعش کے خطرے سے آگاہ ہے۔ وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششیں تمام گروپوں کے خلاف ہیں۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ داعش کے پاکستان میں مبینہ کمانڈر اور اس کے دو معاونین کو لاہور سے حراست میں لیا گیا ہے۔

اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق گرفتار کیے گئے مشتبہ شخص کا نام یوسف السلفی تھا جو کہ پاکستانی نژاد شامی شہری ہے اور حال ہی میں ترکی کے راستے شام سے ہوتے ہوئے پاکستان پہنچا تھا۔

اطلاعات کے مطابق حراست میں لیے گئے مشتبہ افراد شام اور عراق میں سرگرم تنظیم داعش کے لیے پاکستان سے لوگوں کو بھرتی کرنے میں ممکنہ طور پر ملوث تھے۔

لیکن پولیس یا قانون نافذ کرنے والے کسی ادارے کی طرف سے ان گرفتاریوں کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

پاکستان میں اس سے قبل بھی کئی شہروں میں داعش کے حق میں دیواروں پر تحریروں کے علاوہ اُن کا تشہری مواد تقسیم کیا گیا۔ لیکن پاکستانی عہدیدار بشمول وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار ایک سے زائد مرتبہ اپنے بیانات میں کہہ چکے ہیں کہ اس شدت پسند تنظیم کا ملک میں کوئی وجود نہیں۔

دہشت گردوں کے خلاف پاکستان نے بھرپور کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں باقاعدہ فوجی آپریشن کے علاوہ ملک بھر میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر چھاپہ مار کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

حکام کے مطابق اب تک سینکڑوں مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے بدھ ہی کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ناصرف دہشت گردوں بلکہ اُن کے معاونین کو ختم کیا جائے اور دہشت گردی کے خلاف حکومت کے عزم کو غیر سنجیدگی سے نا لیا جائے۔

XS
SM
MD
LG