رسائی کے لنکس

logo-print

سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کیس میں 358 ارب روپے کی پیش کش مسترد کر دی


بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض، سپریم کورٹ میں سماعت کے بعد اپنے حامیوں کے ساتھ۔ فائل فوٹو

سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے کراچی ہاؤسنگ منصوبے کو قانونی دائرے لانے کے لیے ملک ریاض کی جانب سے 358 ارب کی ادائیگی کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔

عدالت نے بحریہ ٹاؤن کو پیشکش پر دوبارہ غور کا حکم دیا۔

اسلام آباد میں جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بحریہ ٹاؤن کراچی عمل درآمد کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوارن بحریہ ٹاؤن کے کراچی منصوبے کی 16 ہزار 896 ایکٹر زمین کے غیر قانونی قبضے کو قانون کے دائرے میں لانے پر بات کی گئی۔

فروخت پر عدالت نے پابندی لگائی تھی۔

بحریہ ٹاؤن کی پیشکش پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ 2014 میں عدالت نے 7 ہزار ایکٹر سرکاری زمین کے نرخ 225 ارب روپے طے کیے تھے اگر اس میں 40 فیصد اضافہ کریں تو 315 ارب روپے بنتے ہیں اس پر بحریہ ٹاؤن کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کل 16 ہزار 896 ایکٹر زمین کے عوض 315 ارب دینے کو تیار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ میرا مؤکل زیادہ سے زیادہ 350 ارب روپے دے سکتا ہے۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ 315 ارب روپے صرف 7068 ایکٹر کے بنتے ہیں۔ یہاں کوئی ٹماٹر نہیں بک رہے۔

جس پر وکیل بحریہ ٹاؤن علی ظفر نے کہا کہ 7 ہزار 68 ایکڑ زمین کے لیے 150 ارب روپے دینے کو تیار ہیں جبکہ 9 ہزار ایکڑ کے لیے 208 ارب روپے دے سکتے ہیں۔ وکیل کے جواب پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ کے تحت غیر قانونی زمین نہیں بیچ سکتے ہیں۔

علی ظفر نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن 600 ارب روپے کا وعدہ نہیں کر سکتا اور 16 ہزار ایکڑ کے لیے 358 ارب روپے دے سکتے ہیں، جس کی 8 سال میں ادائیگی کرنے پر تیار ہیں۔

ڈائریکٹر سروے جنرل آف پاکستان کراچی نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن کراچی میں سرکاری زمین پر قبضے کے حوالے سے غلط بیانی کر رہا ہے۔

ڈائریکٹر سروے جنرل نے بتایا کہ ہم نے سرکاری زمین قبضے میں لینے کی حکمت عملی بنائی تھی۔ جس پر جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ موقع پر کون گیا تھا؟ انھوں نے کہا کہ حکمت عملی نہ بتائی جائے بلکہ عملی اقدامات بتائیں۔

عدالت نے ڈپٹی کمشنر/ کلکٹر ملیر کو سرکاری زمین دو ہفتوں میں واگزار کرانے کا حکم دیا اور کہا کہ دو ہفتوں کے بعد عمل درآمد رپورٹ پیش کی جائے۔

اس موقع پر انہوں نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ ہم آج کے فیصلے میں لکھیں گے کہ عدالت کو کچھ بتایا گیا اور عدالت سے حقائق چھپائے گئے۔

جسٹس عظمت سعید نے ڈپٹی کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ زمین آپ کی تھی۔ آپ لوگ حفاظت نہیں کر سکتے، اگر آپ لوگ سرکاری زمین کی حفاظت نہیں کر سکتے تو نیب کے مقدمات بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔ حد بندی زمین سے باہر کی زمین فروخت پر عدالت نے پابندی لگائی تھی۔

عدالت نے سروے جنرل آف پاکستان، نیب اور بحریہ ٹاؤن کے نقشوں میں تضاد پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سروے جنرل آف پاکستان کو دو ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے اگلی سماعت پر بحریہ ٹاؤن کے مجاز پراپرٹی ڈیلر پرزم پراپرٹیز کے مالک کو طلب کر لیا۔

عدالت نے کہا کہ اگلی سماعت پر نیب، وفاق اور سندھ حکومت کا موقف سن کر فیصلہ کریں گے۔ کیس کی مزید سماعت 29 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔

یاد رہے کہ مئی 2018 میں سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ اور تبادلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کراچی کو رہائشی، کمرشل پلاٹوں اور عمارتوں کی فروخت سے روک دیا تھا۔ جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 1-2 کی اکثریت سے بحریہ ٹاؤن اراضی سے متعلق کیسز پر فیصلہ سناتے ہوئے اس معاملے کو قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیجنے اور 3 ماہ میں تحقیقات مکمل کر کے ذمہ داران کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں ایک بینچ کام کر رہا ہے جس کی آئندہ سماعت اب 29 جنوری کو ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG