رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان: سکیورٹی فورسز پر شدت پسندوں کے حملے، دس اہلکار ہلاک 


(فائل فوٹو)

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 10 اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔

بلوچستان کے پنجگور اور تربت اضلاع میں اتوار کو فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کی گاڑیوں پر نا معلوم افراد نے خودکار ہتھیاروں سے دو حملے کئے۔

لیویز کے ایک عہدیدار ہدایت اللہ دشتی کے بقول پہلا حملہ پنجگور شہر سے دور گوران کے علاقے میں کیا گیا جہاں مسلح افراد نے گاڑی میں سوار ایف سی اہلکاروں پر اندھا دُھند فائرنگ کی جس سے گاڑی میں سوار چھ اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔

علاقہ شہر سے دور ہونے کے باعث زخمیوں کو اسپتال پہنچانے میں کافی تاخیر ہوئی، اس دوران زخمیوں میں سے چار نے دم توڑ دیا دیگر دو زخمیوں کو مقامی اسپتال میں داخل کر دیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اُن کی حالت تسلی بخش بتائی ہے۔

مسلح افراد سیکورٹی ادارے کے اہلکاروں کا اسلحہ اور دیگر سامان بھی لے گئے ۔

واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز کے تازہ دم دستے علاقے میں پہنچ گئے اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

اُدھر تربت کے علاقے سنگ آباد کے مقام پر فرنٹیئر کور بلوچستان کے اہلکاروں پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں چار اہلکار ہلاک اور تین دیگر زخمی ہو گئے۔

اسسٹنٹ کمشنر تربت سعید جان بلوچ کے بقول ایف سی کے اہلکار ایک گاڑی میں لنک روڈ سے سی پیک شاہراہ میں داخل ہو رہے تھے کہ اس دوران اُن کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جب کہ تین زخمیوں کو تربت اسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔

دونوں واقعات کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم کی طرف سے قبول نہیں کی گئی تاہم اس سے پہلے علاقے میں ہونے والے بیشتر حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکری تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔

اُدھر بلوچستان کے شمالی ضلع لورالائی میں بھی گزشتہ ہفتے کو نا معلوم مسلح افراد نے فرنٹیئر کور بلوچستان کے دو اہلکاروں کو نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا جب کہ فائرنگ سے ایک راہ گیر بھی زخمی ہو گیا۔

پولیس کے ایک افسر اخلاص کے بقول ایف سی اہلکار موٹر سائیکل پر ژوب روڈ سے گزر رہے تھے کہ راستے میں وہاں پہلے سے گھات لگائے ہوئے مسلح افراد نے اُن پر حملہ کیا اور فرار ہو گئے۔

اس واقعہ کی ذمہ داری کالعدم تحر یک طالبان پاکستان کی طرف سے سوشل میڈیا پر جاری کئے گئے ایک بیان میں قبول کر لی گئی ہے۔

بلوچستان کے جنوبی اضلاع تربت، پنجگور، گوادر اور آواران سے پاک چین اقتصادی راہداری کا سیکڑوں کلو میٹر حصہ گزرتا ہے اس علاقے میں اس سے پہلے بھی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں، مقامی انتظامیہ اور پولیس کے افسران پر جان لیوا حملے ہوتے رہے ہیں جس میں اب تک درجنوں اہلکار جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے حملوں کی مذمت کی ہے اور متعلقہ اداروں کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ علاقے میں امن و امان کو برقرار رکھنے اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کریں۔

صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اداروں کی کارروائیوں سے صوبے میں اب تقریباً امن بحال ہو چکا ہے البتہ بعض اوقات تخریب کار سکیورٹی اداروں پر حملے کر لیتے ہیں لیکن اُن کے خلاف بھرپور کارروائی کر کے اُن کو ختم کر دیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG