رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان: تشدد کے مختلف واقعات میں ایک خاتون سمیت پانچ افراد ہلاک


(فائل فوٹو)

بلوچستان میں دو مختلف واقعات میں چار خودکش حملہ آوروں سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔ کوئٹہ میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے بلوچستان یونیورسٹی کے آفس سپرنٹنڈنٹ کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

ڈی ائی جی کو ئٹہ عبدالرزاق کے مطابق بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ امتحانات کے آفس سُپرنٹنڈنٹ سید حسین شاہ ایک نجی گاڑی میں منگل کو صبح اپنے گھر سے یونیورسٹی جا رہے تھے۔ شہر کے جنوب مغربی علاقے میں ایک پُل سے جب اُن کی گاڑی گزر رہی تھی اسی اثنا میں گاڑی کا تعاقب کرنے والے موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم حملہ آوروں نے اُن پر پستول سے فائرنگ کی جس سے سید حسین شاہ کو سینے میں تین گولیاں لگیں اور وہ شدید زخمی ہو گئے۔ اُنھیں فوری طور پر سو ل اسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا تاہم طبی امداد ملنے سے قبل ہی انہوں نے دم توڑ دیا۔

ملزمان موٹر سائیکل پر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر واقعہ کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

پولیس حکام کے بقول حسین شاہ کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔ بظاہر یہ دہشت گردی کی واردات لگتی ہے جس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

اُدھر بلوچستان کے ضلع لورالائی کے نواحی علاقے ناصر آباد میں کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی کارروائی میں ایک خاتون سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے۔ پولیس نے ہلاک ہونے والوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے۔

اے ایس پی لورالائی عطا الرحمان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ لورالائی بازار کے نواحی علاقے ناصر آباد میں ایک مکان کے اندر ایک خاتون سمیت چار افراد روپوش تھے۔

منگل کو علی الصبح پولیس، فرنٹیئر کور اور دیگر اداروں نے مکان کو گھیرے میں لے لیا۔ اس دوران مکان کے اندر چھپے ہوئے لوگوں نے سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں پر فائرنگ شروع کر دی جس سے ایف سی کے دو اہل کار زخمی ہو گئے۔

اے ایس پی کے بقول مسلح افراد نے گھیرا تنگ ہوتے دیکھ کر مکان کے اندر خودکش دھماکہ کر دیا جس سے مکان کے اندر موجود خاتون سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے اور خودکش حملہ آوروں کے چیتھڑے اُڑ کر آس پاس کے گھروں میں جا گرے۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے سے قریبی مکان کی دیوار گر گئی جس سے مکان میں رہنے والے چار افراد زخمی ہو گئے جنہیں مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے بقول دہشت گرد پہلے کوئٹہ اور اس کے نواحی علاقوں میں کارروائیاں کر تے تھے لیکن وہاں سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں کے بعد دہشت گرد اب لورالائی میں آ کر پناہ لے رہے ہیں۔ انہی دہشت گردوں نے لورالائی میں گزشتہ دو ماہ کے دوران پولیس اور ایف سی کے دفاتر پر حملے کئے اب ایک بار پھر وہ شہر میں کسی اہم ادارے یا مرکز پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے کیونکہ جس مکان میں وہ رہ رہے تھے اُس کے قر یب بلوچستان ریذیڈینشیل کالج، لورالائی یونیورسٹی اور میڈیکل کالج ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد یہ کارروائیاں پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے رد عمل میں کر رہے ہیں کیونکہ پہلے دہشت گرد کو ئٹہ یا صوبے کے دوسرے علاقے میں واردات کر کے افغانستان فرار ہو جاتے تھے لیکن اب اُن کے فرار کا راستہ باڑ لگانے سے بند کر دیا گیا اس لئے اب لورالائی یا دیگر کم سیکورٹی کے علاقے میں اپنی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

گزشتہ بدھ کو لورالائی سے متصل ضلع زیارت میں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے نیم سیکورٹی فورس لیویز کے چھ اہل کاروں کو ہلاک کر دیا تھا، اس سے پہلے ضلع لورالائی میں گزشتہ دو ماہ کے دوران فرنٹیئرکور اور بلوچستان پولیس کے دفاتر پر دو حملے کئے گئے تھے جن میں ایک اعلیٰ افسر سمیت 13 افرادہلاک ہو گئے تھے۔ ان واقعات کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے قبول کی گئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG