رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان: فورسز کی کارروائی کم ازکم 13 'دہشت گرد' ہلاک


فرنٹئیر کور کے ترجمان کے مطابق مارے جانے والے مبینہ دہشت گرد گزشتہ ہفتے تربت کے قریب مزدوروں کے کیمپ پر ہلاکت خیز حملے میں ملوث تھے۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران کم از کم 13 مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

فرنٹئیر کور کے ترجمان کے مطابق مارے جانے والے مبینہ دہشت گرد گزشتہ ہفتہ کو تربت کے قریب مزدوروں کے کیمپ پر ہلاکت خیز حملے میں ملوث تھے۔

اس واقعے میں پنجاب اور سندھ سے تعلق رکھنے والے 20 مزدور ہلاک ہوگئے تھے۔

حکام کے مطابق ایف سی اور پولیس اہلکار انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر تربت میں گبین کے علاقے میں پیر کی صبح سرچ آپریشن میں مصروف تھے کہ وہاں ان کا مشتبہ دہشت گردوں سے آمنا سامنا ہوا جنہوں نے فورسز پر فائرنگ شروع کر دی۔

جوابی کارروائی میں کم از کم 13 دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

ایف سی کے ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کالعدم بلوچ عسکری تنظیم بلوچ لبر یشن فرنٹ کا کمانڈر حیات بھی شامل ہے جب کہ ایک کمانڈر ظریف کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ نے تربت میں مزدوروں کے کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

بلوچستان قدرتی وسائل سے مالامال لیکن پاکستان کا پسماندہ ترین صوبہ ہے اور یہاں ایک دہائی سے زائد عرصے سے مختلف بلوچ عسکری تنظیمیں مسلح کارروائیاں کرتی آرہی ہیں۔

ان میں سے بعض صوبے کے وسائل اور خودمختاری میں زیادہ حصے اور بعض علیحدگی کا مطالبہ کرتی آرہی ہیں۔

حکومت نے ان عناصر سے مذاکرات کے ذریعے صوبے میں امن و امان بحال کرنے کی کوششیں شروع کی تھیں لیکن تاحال اس میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔

کالعدم بلوچ تنظیموں کی طرف سے سکیورٹی فورسز اور سرکاری املاک پر حملوں کے علاوہ دیگر صوبوں سے آکر آباد ہونے والوں کے نشانہ بنائے جانے کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG