رسائی کے لنکس

پاکستان اور بنگلہ دیش ماضی بھلا کر مفاہمت کریں، سفیر اکبر احمد


سابق سفیر اکبر احمد

پاکستان کے ایک سابق سفیر اکبر احمد نے وائس آف امریکہ کی بنگلہ سروس کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ پاکستان کو لازماً اس درد کو تسلیم کرنا چاہیے جو سن 1971 کی جنگ میں اس کی وجہ سے بنگلہ دیش کو لوگوں کو برداشت کرنا پڑا تھا۔

سابق سفارت کار کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب دونوں فریقوں کو مصالحت کرنے اور مفاہمت کی جانب بڑھنے کی ضرورت ہے۔

سفیر اکبر خان نے کئی عشروں تک پاکستان کے لیے خدمات سرانجام دی ہیں اور سن 1971 کی خانہ جنگی کے موقع پر وہ بنگلہ دیش میں تعینات تھے۔

انہوں نے بتایا کہ جب وہ اور ان کی اہلیہ سن 1971 میں بنگلہ دیش سے واپس پاکستان گئے تو انہوں نے جب لوگوں کو وہاں کے اپنے مشاہدات کے متعلق بتایا تو مجھے احساس ہوا کہ وہاں کی خانہ جنگی کے متعلق ان کا علم بہت محدود تھا اور انہیں اس صوبے اور وہاں کے لوگوں کی اہمیت کا پتا نہیں تھا۔

سفیر اکبر احمد نے کہا کہ آج میں پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں کو کہنا چاہوں گا کہ وہ ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ وہ ماضی کو بھلا کر ایک دوسرے سے مفاہمت کریں۔ ایسے پل بنائیں جس سے دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے کے قریب آ سکیں۔ ترقی کے راستے پر آگے بڑھنے کے لیے مفاہمت بہت ضروری ہے۔ کیونکہ دنیا بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اگر ہمارے خطے کے ملکوں میں اسی طرح کشیدگی اور تناؤ رہا تو ہم بہت پیچھے رہ جائیں گے۔

سابق سفارت کار نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے سن 71 کے بڑے پیمانے کے قتل عام کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا اور اس موضوع پر کئی مضامين بھی لکھے۔

وائس آف امریکہ کے ساتھ انگریزی زبان میں ان کے انٹرویو کو حال ہی میں بنگلہ دیش کے نیشنل ٹیلی وژن نے بھی نشر کیا ہے۔

اس انٹرویو کے بعد سے سفیر اکبر احمد کو مثبت ردعمل مل رہا ہے جن میں نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کے والد، واشنگٹن ڈی سی میں قائم گاندھی سینٹر کے سربراہ اور بھارت کے کئی اہم مذہبی رہنما بھی شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG