رسائی کے لنکس

logo-print

بنگلہ دیش: جماعت اسلامی کے سربراہ کی سزائے موت برقرار، پاکستان کی تشویش


مطیع الرحمٰن جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سربراہ ہیں اور اُنھوں نے اپنی سزائے موت کے خلاف ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں نظر ثانی کی اپیل دائر کر رکھی تھی جسے رواں ہفتے مسترد کر دیا گیا۔

پاکستان نے بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ کی طرف سے جماعت اسلامی کے رہنما مطیع الرحمٰن نظامی کی نظر ثانی کی اپیل مسترد کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مطیع الرحمٰن جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سربراہ ہیں اور اُنھوں نے اپنی سزائے موت کے خلاف ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں نظر ثانی کی اپیل دائر کر رکھی تھی جسے رواں ہفتے مسترد کر دیا گیا۔

پاکستانی وزارت خارجہ سے جمعہ کی شب جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق 1971 میں پیش آنے والے واقعات سے متعلق متنازع مقدمات پر پاکستان بین الاقوامی برداری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ردعمل پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ بنگلہ دیش 1974ء میں طے پانے والے سہ فریقی معاہدے کے مطابق مصالحت کی حکمت عملی اپنائے۔

اپریل 1974ء میں طے پانے والا معاہدے کے مطابق 1971ء کے واقعات پر اُلجھے رہنے کی بجائے مستقبل کی راہ تلاش کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ جماعت اسلامی کے سربراہ مطیع الرحمن نظامی کو 1971ء میں ہوئی جنگ آزادی کے دوران جنسی زیادتی اور قتل عام جیسے سنگین الزامات میں 2014ء میں بنگلہ دیش کے خصوصی ٹربیونل نے موت کی سزا سنائی تھی۔

اُنھوں نے اپنی سزا کے خلاف ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں نظر ثانی کی اپیل دائر کر رکھی تھی جسے مسترد کر دیا گیا اور اب وہ صرف صدر سے رحم کی اپیل کر سکتے ہیں۔

جنگی جرائم پر سزاؤں کے خلاف اپیلوں کو ماضی میں صدر مسترد کرتے رہے ہیں۔

دسمبر 1971ء تک بنگلہ دیش پاکستان کا حصہ اور مشرقی پاکستان کہلاتا تھا۔ لیکن پھر ایک جنگ کے نتیجے میں یہ ایک الگ ریاست بنا۔

2010ء میں وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے پاکستان سے علیحدگی کے لیے 1971ء میں لڑی گئی جنگ کے دوران مختلف جرائم کی سماعت کے لیے خصوصی ٹربیونل تشکیل دیا تھا جو اب تک مختلف سیاسی رہنماؤں سمیت دو درجن سے زائد افراد کو سزائے موت سنا چکا ہے۔

جماعت اسلامی اور حزب مخالف کی دیگر جماعتوں کا یہ الزام رہا ہے کہ یہ ٹربیونل سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کی کئی بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے بھی ٹربیونلز میں چلائے جانے والے مقدمات کے طریقہ کار اور انصاف کے لیے ضروری تقاضوں کو پورا نا کیے جانے پر تحفظات سامنے آ چکے ہیں۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ 73 سالہ مطیع الرحمٰن نظامی کی سزائے پر عمل درآمد کب کیا جائے گا، لیکن جنگی جرائم پر اب تک کئی افراد کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG