رسائی کے لنکس

logo-print

کالعدم جماعتوں کی 11 معاون تنظیموں پر بھی پابندی عائد


کالعدم جماعت الدعوہ کے حامیوں کی ایک ریلی (فائل)

پاکستان میں وفاقی حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کو مزید تیز کرتے ہوئے کالعدم جماعتوں کی 11 معاون تنظیموں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

ان تنظیموں پر پہلے سے کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں جماعت الدعوۃ، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن اور جیش محمد سے تعلق اور معاونت کا الزام ہے۔

جن معاون تنظیموں پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے ان میں الانفال ٹرسٹ لاہور، ادارہ خدمت خلق لاہور، الدعوۃ الارشاد، الحمد ٹرسٹ لاہور فیصل آباد، الفضل فاؤنڈیشن/ٹرسٹ لاہور، موسک اینڈ ویلفیر ٹرسٹ لاہور، المدینہ فاؤنڈیشن لاہور، معاذ بن جبل ایجوکیشن ٹرسٹ لاہور، الایثار فاؤنڈیشن لاہور، الرحمت ٹرسٹ آرگنائزیشن بہاولپور اور الفرقان ٹرسٹ کراچی شامل ہیں۔

اس حوالے سے سینئر صحافی اور ’جیو نیوز‘ سے منسلک اعزاز سید نے ’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان تنظیموں کا کردار بڑی تنظیموں کے لیے فنڈز اور افرادی قوت جمع کرنا تھا، لیکن حالیہ پابندیوں کے پیش نظر انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی تھی۔

اعزاز سید نے کہا کہ ان تنظیموں پر پابندی سے ’ایف اے ٹی ایف‘ کی طرف سے کیے جانے والے مطالبات پر فرق نہیں پڑے گا، کیونکہ ایف اے ٹی ایف کی طرف سے صرف پابندی نہیں بلکہ ان تنظیموں کا مکمل نیٹ ورک ختم کرنے کا کہا جا رہا ہے، جو ایک مشکل کام ہے۔

رواں سال فروری میں حکومت پاکستان نے جماعت الدعوة اور اس سے منسلک تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندی عائد کی تھی، جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے رواں ماہ کالعدم تنظیم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کا نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ پاکستان میں جیش محمد پہلے ہی سال 2002 سے کالعدم قرار دی جاچکی ہے۔

پاکستان میں انسداد دہشت گردی اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی نگرانی کرنے والے ادارے، ’نیکٹا‘ نے اپنی ویب سائیٹ پر ان کالعدم تنظیموں کی فہرست میں معاون تنظیموں کے نام بھی شامل کر دیے ہیں۔

بین الاقوامی ادارے، ’فنانشل ایکشن ٹاسک فورس‘ کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے اور منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے شدید دباؤ ہے جس کے نتیجے میں حکومت نے کالعدم تنظیموں کے کام کرنے پر پابندی سمیت بہت سے اقدامات کیے ہیں۔

لیکن، ابھی پاکستان کا ’گرے لسٹ‘ سے ’بلیک لسٹ‘ میں شامل کیے جانے کا خدشہ موجود ہے، جس سے بچنے کے لیے پاکستانی حکام کوشش کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG