رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کو 10 سالوں میں 80 ارب ڈالر کا نقصان ہوا: وزارت داخلہ


وزارت داخلہ کی پارلیمانی سیکرٹری مریم اورنگزیب نے ایوان کو بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں اہلکاروں سمیت 50 ہزار پاکستانی ہلاک بھی ہوئے۔

پاکستانی پارلیمان کے ایوان زیریں میں جمعہ کو قانون سازوں کو بتایا گیا کہ گزشتہ ایک دہائی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ملک کی معیشت کو 80 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔

وزارت داخلہ کی پارلیمانی سیکرٹری مریم اورنگزیب نے ایوان کو بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں اہلکاروں سمیت 50 ہزار پاکستانی ہلاک ہوئے۔

اُنھوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر اپنے نظریات کے تحت مقاصد کے حصول کے لیے ملک بھر میں سرگرم رہے ہیں۔ تاہم اُن کا کہنا تھا کہ داخلی امن کے لیے حکومت نے ایک نئی پالیسی تیار کی ہے۔

وزارت داخلہ کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سرکاری عمارتوں کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں ایوان کو بتایا گیا کہ پولیس چوکیوں، پلوں، بنیادی صحت کے مراکز، بیرکوں، تعلیمی اداروں اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا۔

پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ رانا محمد افضل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کی جا رہی ہے جس سے اُن کے بقول ملک میں قیام امن کا حصول ممکن ہو سکے گا۔

جمعہ کو قومی اسمبلی میں قانون سازوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ’ضرب عضب‘ کے آغاز کے بعد سے ملک میں دہشت گردوں کی کارروائیوں میں کمی آئی ہے۔

پاکستانی فوج نے 15 جون سے شمالی وزیرستان میں بھرپور آپریشن شروع کر رکھا ہے جس میں اب تک عسکری حکام کے بقول 1200 سے زائد دہشت گرد مارے جا چکے ہیں جن میں غیر ملکی عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔

شمالی وزیرستان کے بعد فوج اس علاقے سے فرار ہو کر خیبر ایجنسی میں روپوش ہونے والے شدت پسندوں کے خلاف بھی ایک بھرپور کارروائی شروع کر چکی ہے۔

فوج کے مطابق دہشت گردوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول کے نظام کو تباہ کیا جا چکا ہے جس کے بعد حکام کے بقول اب شدت پسند منظم حملے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

اگرچہ آپریشن ضرب عضب کے بعد بھی دہشت گردوں نے ملک میں کئی حملے کیے لیکن اُن کی شدت میں واضح کمی آئی ہے۔

XS
SM
MD
LG