رسائی کے لنکس

logo-print

حیاتیاتی تنوع کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لئے تین روزہ کانفرنس


حیاتیاتی تنوع کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لئے تین روزہ کانفرنس

ماہرین کے مطابق پاکستان حیاتیات کے اعتبار سے وسیع تنوع رکھتا ہے جہاں لاتعداد اقسام کے پودوں اور درختوں کے علاوہ ایک سو سے زیادہ جانور، ساڑھے چھ سو سے زیادہ پرندے، پونے دو سو کے قریب رینگنے والے کیڑے اور چھ سو سے زیادہ اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حیاتیاتی تنوع کو سنگین خطرات لاحق ہیں جن کے تحفظ کے لیے اگر ہنگامی اور ٹھوس اقدامات نا کیے گئے تو قدرت کی تمام جاندار تخلیقات کو نا قابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

حیاتیاتی تنوع سے مراد انسان ، حیوانات، پرندے ، کیڑے ، مچھلیاں اور درختوں سمیت کائنات کا ہر جاندار وجود ہے۔

ماہرین کی رائے میں موسمی تبدیلی یا عالمی حدت میں اضافے کے حیاتیاتی تنوع پر اثرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن پاکستان میں انسانوں کی طرف سے قدرت کی تخلیقات میں بلاجواز مداخلت بشمول جانوروں اور پرندوں کا غیر قانونی شکار ، درختوں کی کٹائی، آبی و فضائی آلودگی میں اضافہ نا صرف حیاتیات کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ اس ماحولیاتی تباہی کا بھی سبب بن رہا ہے جو ہر جاندار کے لیے نقصان دہ ہے۔

ان تمام خطرات سے نمٹنے کی غرض سے حکومت پاکستان کے زیر اہتمام اسلام آباد میں تین روزہ کانفرنس منگل کو شروع ہوئی جس میں ملک بھر سے سائنس دان اور ماہرین شرکت کر رہے ہیں اور وہ مشاورت سے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی ایک مربوط حکمت عملی وضع کریں گے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ویٹ لینڈ پروگرام کے ایک عہدیدار غلام اکبر نے بتایا کہ گذشتہ حالیہ برسوں کے دوران پاکستان میں عدم توجہی کی وجہ سے ایک سینگھ والے گینڈے اور ایشائی شیر سمیت کم از کم چار نایاب جانوروں کی نسل ختم ہو چکی ہے جبکہ سفید سر والی بطخ، سفید پشت والے گدھ، سبز کچھوے ، مارکوپولو بھیڑ، اڑیال ، مسک ہرن ، برفانی تیندوے اور انڈس ڈالفن سمیت کم از کم پندرہ جانوروں، پرندوں اور مچھلیوں کی نسل ناپید ہو سکتی ہے۔

سفید پشت والے گدھ کا نوزائیدہ چوزہ
سفید پشت والے گدھ کا نوزائیدہ چوزہ

پاکستان سائنس فاؤنڈ یشن کے سربراہ منظور سومرو نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچانے والے انسان اس بات سے نا آشنا ہیں کہ خود ان کی زندگیوں کا دارومدار بھی ان ہی حیاتیات سے جڑا ہے۔

‘‘جن جانوروں کی نسل کم ہو رہی ہے وہ کئی ادویات کے لئے درکار ہیں، کئی کیڑے ایسے ہیں جن کی موجودگی زمین کی زرخیزی کے لئے ناگزیر ہے اور زمین کی زرخیزی سے ہی غذائی تحفظ جڑا ہوا ہے اس طرح ہر جاندار کا انحصار دوسرے پر ہے۔‘‘

پاکستان میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے کن اقدامات کی ضرورت ہے اس بارے میں پاکستان میوزیم آف نیچرل ہسٹری کے سربراہ سید اظہر حسن کہتے ہیں ’’ جس قدر زیادہ ممکن ہو شجرکاری کی جائے، فیکٹریوں اور گھروں کی گندگی پانی میں نا پھینکی جائے، زہریلے دھوئیں کے اخراج پر کنٹرول کیا جائے۔‘‘

ماہرین کے مطابق پاکستان حیاتیات کے اعتبار سے وسیع تنوع رکھتا ہے جہان لاتعداد اقسام کے پودوں اور درختوں کے علاوہ ایک سو سے زیادہ جانور، ساڑھے چھ سو سے زیادہ پرندے، پونے دو سو کے قریب رینگنے والے کیڑے اور چھ سو سے زیادہ اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG