رسائی کے لنکس

logo-print

گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے خلاف اسلام آباد میں مظاہرہ


ڈچ پارلیمنٹ کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے اعلان کے خلاف لاہور میں مذبی جماعتوں کا احتجاج ۔ 17 اگست 2018

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں مظاہرین نے نیدرلینڈز کی پارلیمنٹ کے ایک رکن کی جانب سے پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کا مقابلہ کرانے کے اعلان کے خلاف ڈچ سفارت خانے کے قریب احتجاج اور پتھراؤ کیا۔

مظاہرین نے پولیس کی جانب سے لگائی گئی کئی رکاوٹیں توڑ ڈالیں، تاہم وہ انتہائی حفاظتی زون میں واقع ڈچ سفارت خانے کی عمارت تک پہنچے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

اس زون میں بہت سے ملکوں کے سفارت خانے قائم ہیں۔

مظاہرے کی قیادت ایک اسلام پسند جماعت تحریک لبیک پاکستان کے مقامی راہنماؤں نے کی ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ نیدرلینڈز کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لے۔

مظاہرے میں شریک ایک شخص ظہیر سلطان نے وائس آف امریکہ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ نیدرلینڈز کے سفارت خانے کو بند کر دیا جائے اور اس کے سفیر کو واپس بھیج دیا جائے۔

پشاور میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے اعلان کے خلاف ڈچ کا پرچم نذر آتش کیا جا رہا ہے۔ 17 اگست 2018
پشاور میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے اعلان کے خلاف ڈچ کا پرچم نذر آتش کیا جا رہا ہے۔ 17 اگست 2018

اس کا کہنا تھا کہ اسے مظاہرے میں شرکت کے لیے کسی پارٹی نے نہیں بھیجا اور نہ ہی اس کا کسی جماعت سے تعلق ہے۔ اسے مظاہرے کا علم فیس بک سے ہوا اور وہ اس میں شرکت کے لیے آ گیا۔

مظاہرین نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ اقوام متحدہ کو خط لکھیں جس میں ڈچ حکومت سے معافي مانگنے کے لیے کہا جائے۔

نیدرلینڈز کے وزیر اعظم نے اس سال جون میں اعلان کیا تھا کہ وہ اس سال کے آخر میں اپنی پارلیمانی پارٹی کے دفاتر میں گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کرائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے نے ان کے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔

اسلام کے خلاف جوشیلی تقریروں پر شہرت رکھنے والے ویلڈرز اس سے پہلے یہ اپیل بھی کرچکے ہیں کہ قران پر پابندی لگا دی جائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام نظریاتی طور پر مطلق النعانی کا مذہب ہے۔

مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد گستاخانہ خاکوں کو توہین مذہب قرار دیتی ہے ۔ ان خاکوں کے باعث ماضی میں تشدد کے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔

سن 2015 میں ایک مسلح مسلمان نے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک اخبار شارلی ہبدو کے دفتر پر حملہ کر کے گستاخانہ کارٹون چھاپنے پر 12 افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

پچھلے مہینے پاکستان کے عام انتخابات میں تحریک لبیک پارٹی نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے اپنے سینکڑوں امیدواروں کو میدان میں اتارا تھا، تاہم وہ صرف دو صوبائی نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو سکی۔

پاکستان کے سب سے گنجان آباد صوبے پنجاب میں تحریک لبیک پاکستان، حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد کے لحاظ سے تیسری سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG