رسائی کے لنکس

logo-print

مولانا فضل الرحمن کے قافلے پر دوسرا خودکش حملہ


مولانا فضل الرحمن کے قافلے پر دوسرا خودکش حملہ

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے قافلے پر جمعرات کو چارسدہ میں ہونے والے ایک خودکش بم دھماکے میں کم از کم 14 افراد ہلاک جب کہ 30 زخمی ہوگئے۔

چارسدہ کے ضلعی پولیس افسر نثار مروت نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان میں ایک پولیس انسپکٹر بھی شامل ہے۔

جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے مقامی ٹی وی چینلز سے گفتگو میں کہا کہ وہ اور اُن کے دیگر ساتھی اس بم دھماکے میں محفوظ رہے ۔ اُنھوں نے بتایا کہ اُن کا قافلہ جماعت کے ایک جلسے میں شرکت کے لیے جا رہا تھا جب یہ حملہ کیا گیا اور زخمی ہونے والوں میں اُن کے اپنے محافظ بھی شامل ہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وہ جس گاڑی میں سفر کر رہے تھے دھماکے کی شدت سے اُسے بھی نقصان پہنچا اور اس واقعے کے بعد ساتھیوں کے مشورے پر انھوں نے جلسہ گاہ جانے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔

صوبہ خیبر پختون خواہ کے وزیر اطلاعات نے مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے سیاسی اجتماعات کو محدود پیمانے اور ایسی جگہ پر منعقد کریں جہاں انھیں سکیورٹی فراہم کرنا ممکن ہو۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ پر دو روز کے دوران مبینہ طور پردوسری مرتبہ قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے۔

بدھ کومولانا فضل الرحمن صوبہ خیبر پختون خواہ کے ضلع صوابی میں جلسہ عام سے خطاب کے لیے جونہی علاقے میں پہنچے تو موٹرسائیکل پر سوار ایک خودکش بمبار نے پنڈال سے کچھ ہی فاصلے پرجسم سے بندھے بارودی مواد میں دھماکا کر دیا ۔

اس حملے میں بھی ایک پولیس انسپکڑ سمیت کم ازکم دس افراد ہلاک اور دو درجن سے زائد زخمی ہوگئے تھے تاہم جے یوآئی کے سربراہ اور اُن کے ساتھی محفوظ رہے۔

مولانا فضل الرحمٰن قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔

XS
SM
MD
LG