رسائی کے لنکس

logo-print

لاہورمیں خودکش حملوں کی پاکستان بھر میں شدید مذمت جاری


داتادربار لاہور میں جمعرات کی رات ہونے والے خودکش دھماکوں اور ان میں ہونے والی ہلاکتوں پر ملک بھر میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ سیاسی ومذہبی جماعتوں کے علاوہ عام شہری بھی اس واقعے پر غم وغصے کا اظہار کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امن اور بھائی چارے کا پرچار کرنے والے اولیا اللہ کے مزاروں پر ایسی انسانیت سوز کارروائیاں قابل مذمت ہیں۔ ملک کے بعض علاقوں میں نماز جمعہ کے اجتماعات کے بعد خودکش حملوں کے خلاف مظاہرے بھی کیے گئے۔

وفاقی وزیر قانون بابر اعوان نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے داتا دربار میں ہونے والے خودکش حملوں کی وفاقی حکومت کی طرف سے شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاکہ حکومت اس سوگ میں برابر کی شریک ہے۔

معروف عالم دین مفتی منیب الرحمن نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں ایسے حملوں کی قطعی کوئی گنجائش نہیں۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے سے جاری ہونے والے ایک بیان میں خودکش حملوں کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پرامن خانقاہ پر ہونے والے بیہمانہ حملے بے حسی پر مبنی ہیں۔ بیان میں ان ہلاکت خیز حملوں پر پاکستانی عوام سے تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے۔

دریں اثناء جمعرا ت کو ہونے والے ان حملوں کے بعد نماز جمعہ کے اجتماعات کے موقع پرملک بھر میں مساجد کے باہر سکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے تھے۔ لاہور کے گنجان آباد علاقے میں داتا دربار مجموعی طور پر اعتدال پسند مسلمانوں کی پہچان سمجھاجاتا ہے اور طالبان شدت پسند نظریاتی طور پر ایسے مزاروں کے مخالف سمجھے جاتے ہیں اور پہلے بھی وہ ایسے مذہبی مقامات کو نشانہ بنا چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG