رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی حکام نے امریکی سفارتکار کو ملک چھوڑنے سے روک دیا


فائل فوٹو

پاکستان کی طرف سے اسلام آباد میں ایک مہلک سڑک حادثے میں ملوث امریکی سفارتکار کو ملک چھوڑنے سے روک دیا گیا۔

سکیورٹی حکام نے وائس آف امریکہ سے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکی سفارتخانے میں تعینات دفاعی اتاشی جوزف ایمانوئیل ہال ہفتہ کو اسلام آباد کے فضائی اڈے سے ایک خصوصی امریکی فوجی طیارے کے ذریعے پرواز کرنا چاہتے تھے۔

حکام کے بقول امریکی سفارتکار کے ہمراہ سفارتخانے کے متعدد کارکنان نور خان ایئر بیس آئے تھے جہاں امیگریشن حکام نے انھیں مطلع کیا کہ ہال کے خلاف مدمے کی وجہ سے ان کا نام 'بلیک لسٹ' ہے۔

اس کے بعد افغانستان سے آنے والا امریکی فوجی طیارہ سفارتکار کو لیے بغیر ہی واپس روانہ ہو گیا۔

امریکی سفارتخانے کے اس معاملے کی تصدیق یا تردید سے گریز کیا ہے۔

گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس امریکی سفارتکار کی گاڑی نے ایک موٹر سائیکل کو ٹکر ماری تھی جس سے ایک نوجوان ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا تھا۔ یہ گاڑی اس وقت جوزف ہال چلا رہے تھے۔

سفارتی استثنیٰ کے باعث انھیں گرفتار نہیں کیا گیا لیکن بعد ازاں واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا اور حادثے میں ہلاک ہونے والے نوجوان کے والد نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کی درخواست بھی جمع کروائی۔

عدالت نے حکومت سے کہا تھا کہ وہ امریکی دفاعی اتاشی کو ملک چھوڑ کر نہ جانے دے۔

جوزف ہال کو پاکستان سے جانے کی اجازت نہ دیے جانے کا معاملہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل ہی اسلام آباد نے امریکی سفارتکاروں پر بعض سفری قدغنیں لگاتے ہوئے وہ سہولتیں بھی واپس لے لی تھی جو انسداد دہشت گردی میں شراکت دار کے طور پر دے رکھی تھیں۔

یہ اقدام امریکہ کی طرف سے پاکستانی سفارتکاروں پر ملک میں 40 کلومیٹر سے زائد فاصلے تک سفر کے لیے پیشگی اجازت لینے کے فیصلے کے بعد سامنے آیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG