رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر ایجنسی: خودکش بم حملے میں 11 افراد ہلاک


پشاور کے مضافات میں جمرود کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ کے قریب خودکش بم حملے کا ہدف قبائلی پولیس خاصہ دار کے اہلکار تھے۔

پاکستان کے شمال مغرب میں منگل کی صبح ایک خودکش بم دھماکے میں کم ازکم 11 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔

پشاور کے مضافات میں جمرود کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ کے قریب خودکش بم حملے کا ہدف قبائلی پولیس خاصہ دار کے اہلکار تھے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ہلاک و زخمی ہونے والوں میں خاصہ دار فورس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق خودکش بمبار موٹر سائیکل پر سوار تھا اور جہاں یہ دھماکا کیا گیا اُس کے قریب ہی پولیس کی ایک چوکی بھی تھی۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں خاصہ دار فورس کا لائن افسر بھی شامل ہے۔

سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ کر زخمیوں اور لاشوں کو اسپتال منتقل کیا جب کہ علاقے کو گھیرے میں لے کر کچھ وقت کے لیے یہاں ٹریفک بند کر دی گئی۔

جہاں یہ واقعہ پیش آیا وہ ایک مصروف تجارتی مرکز کارخانو بازار کے قریب ہے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد دن کے اوقات میں یہاں خریدوفروخت میں مصروف ہوتی ہے۔

کارخانو بازار قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے صوبہ خیبر پختوںخواہ کے مرکزی شہر پشاور میں داخل ہونے کا راستہ ہے۔

خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کے بعد اس قبائلی علاقے میں امن و امان کی صورت حال میں حالیہ مہینوں میں قدرے بہتری دیکھی گئی۔

حال ہی میں خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے مرکزی بازار کو کھولنے کا اعلان کیا گیا جب کہ علاقے سے نقل مکانی کرنے والے سپاہ قبائل کی واپسی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

تاہم حالیہ ہفتوں میں دہشت گردوں کی کارروائیوں میں ایک مرتبہ پھر تیزی آئی ہے۔ گزشتہ ماہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع مردان میں کوائف کا اندارج کرنے والے قومی ادارے ’نادرا‘ کے دفتر پر خودکش بم حملے میں کم از کم 25 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

رواں ماہ کے اوائل میں اسلام آباد موٹرے وے سے پشاور شہر میں داخل ہونے والے فوجی قافلے کو بھی بم حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا لیکن اس میں صرف ایک اہلکار زخمی ہوا۔

اس کے علاوہ سوات اور خیبر پختونخواہ کے بعض دیگر علاقوں میں پولیس پر حملوں کی ذمہ داری بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کرنے کے دعویٰ کیے ہیں۔

XS
SM
MD
LG