رسائی کے لنکس

باجوڑ: بم دھماکے میں تحصیل دار سمیت پانچ ہلاک

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے باجوڑ میں اتوار کو ایک بم دھماکے میں کم ازکم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔

مقامی حکام کے مطابق تحصیل لوئی ماموند میں تحصیلدار فواد احمد لیویز اہلکاروں کے ساتھ جا رہے تھے کہ ان کی گاڑی کو دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا۔

دھماکے سے گاڑی تباہ ہوگئی اور اس پر سوار تحصلیدار اور چار لیویز اہلکار ہلاک جب جب کہ دیگر دو زخمی ہوگئے۔

زخمی ہونے والے افراد کی حالت تشویشناک ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز جائے وقوع پر پہنچ گئیں اور علاقے کو گھیرے میں لے کر وہاں سے لاشوں اور زخموں کو اسپتال منتقل کیا۔

جہاں یہ واقعہ پیش آیا وہ مرکزی قصبے خار سے تقریباً 25 کلومیٹر دور واقع ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک ترجمان محمد خراسانی نے اس بم حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

باجوڑ ایجنسی میں تقریباً آٹھ سال قبل سکیورٹی فورسز نے بھرپور کارروائی کر کے عسکریت پسندوں کا یہاں سے صفایا کر دیا تھا جس کے بعد سے یہاں امن و امان کی مجموعی صورتحال نسبتاً بہتر رہی ہے۔

لیکن اس کے باوجود سکیورٹی فورسز، سرکاری حکام، حکومت کے وفادار قبائلیوں اور امن لشکر کے کارکنوں پر نامعلوم شدت پسند حملے کرتے رہے ہیں جب کہ بعض اوقات مبینہ طور پر سرحد پار افغانستان سے بھی عسکریت پسند یہاں سکیورٹی فورسز کی چوکیوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

پاکستانی حکام یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ سرحد پار افغانستان میں موجود عسکریت پسند یہ کارروائیاں کرتے ہیں لیکن افغان حکام ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد پر ایسے ہی الزامات عائد کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG