رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں نیا وفاقی بجٹ پیش کرنے پر تنازع


فائل فوٹو

پاکستان کی موجودہ حکومت کا اصرار ہے کہ وہ اس سا ل کا بجٹ پیش کرے گی جبکہ اس کی مدت 31 مئی کو ختم ہو رہی ہے۔ اپوزیشن کی پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ اب جبکہ چند ہفتوں میں اس حکومت رخصت ہونے جا رہی ہے تو اسے بجٹ پیش کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

وائس آف امریکہ کی اردو سروس کے پروگرام جہاں رنگ میں میزبان قمر عباس جعفری نے وزارت خزانہ کے سابق مشیر اور ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسین اور حکمران جماعت کے رکن قومی اسمبلی اور قائمہ کمیٹی برائے مالیات کے رکن میاں عبدالمنان سے گفتگو کی۔

ڈاکٹر اشفاق حسین کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت اس مالی سال میں چلی جائے گی۔ 31 مئی کو ان کی مدت ختم ہو جائے گی اور انہوں نے یکم جولائی 2017 کا جو بجٹ پیش کیا تھا اس کی مدت پورے جون کے مہینے کے لئے باقی رہے گی جس کے بعد نگراں حکومت آ جائے گی جو اس بجٹ کی رقم سے اخراجات کرے گی اور جون کا مہینہ گزرنے پر وفاقی حکومت سے اپنی بقیہ مدت کے لئے اخراجات کا اختیار لے سکتی جو آئین کی دفعہ 86 کے تحت اس کا حق بنتا ہے۔ جب انتخابات کے بعد نئی حکومت آئے گی تو یہ اخراجات اس کے بجٹ میں شامل ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اخلاقی طور پر اس حکومت کو بجٹ بنانے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ وہ پانچ سال کے لئے منتخب ہوئے تھے۔ اپنے منشور کو پورا کرنے کے لئے انہوں نے پانچ بجٹ دے دئیے۔

ڈاکٹر اشفاق نے کہا کہ حکومت نے ٹیکس ریٹ کو بھی کم کردیا ہے جس سے نقصان بھی ہو گا اور آنے والی حکومت کے لئے مسائل بھی پیدا ہو ں گے۔

میاں عبدلمنان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت بجٹ ضرور بنائے گی کیونکہ آئینی طور پر اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ ماضی کی کئی حکومتوں نے چھ چھ بجٹ دیئے ہیں۔ اس لئے ان کی حکومت کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرے۔

مزید تفصیل کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

پاکستان میں قومی بجٹ کا تنازع
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:23 0:00

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG