رسائی کے لنکس

خواتین کو ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کی مہم کا آغاز


تازہ انتخابی فہرستوں کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد نو کروڑ 70 لاکھ سے زائد ہے جس میں پانچ کروڑ 46 لاکھ مرد جب کہ چار کروڑ 24 لاکھ سے زائد خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن کے لیے ایک مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

تازہ انتخابی فہرستوں کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد نو کروڑ 70 لاکھ سے زائد ہے جس میں پانچ کروڑ 46 لاکھ مرد جب کہ چار کروڑ 24 لاکھ سے زائد خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

سنہ 2013 کی ووٹر فہرستوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کے درمیان یہ فرق ایک کروڑ 97 لاکھ تھا جو کہ 2017ء میں ایک کروڑ 21 لاکھ رہ گیا ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کی اہل خواتین کا نام فہرستوں میں شامل نہ ہونے پر مبصرین یہ کہتے رہے ہیں کہ اس سے انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

پیر کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے شہریوں کے کوائف کا اندراج کرنے والے قومی ادارے 'نادرا' کے ساتھ مل کر ایک مہم کا آغاز کیا ہے جس میں ملک کے 79 اضلاع میں خواتین کو شناختی کارڈ حاصل کرنے کی طرف راغب کیا جائے گا تا کہ ووٹر فہرستوں میں ان کا اندراج ہو سکے۔

اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا نے بتایا کہ آئندہ سال اپریل تک جاری رہنے والی اس مہم کے دوران پنجاب کے 27، خیبر پختونخوا کے 16، سندھ کے 24، بلوچستان کے 11 اضلاع کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں بھی خواتین کو کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ حاصل کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن خواتین اور مرد ووٹرز کی تعداد کے فرق کو ختم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ کمیشن میں خواتین کارکنان کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ آئندہ عام انتخابات کے لیے پولنگ اسٹیشنز پر خواتین اسٹاف کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG