رسائی کے لنکس

بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پابندی پاکستان کے لیے ضروری ہے: مبصرین


حافظ سعید (فائل فوٹو)

پاکستان کی حکومت نے حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی برادری کے تحفظات کے پس منظر میں جن تنظیموں کے خلاف قانونی اور انتظامی اقدامات کیے ہیں ان میں حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ اور اس سے منسلک فلاحی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔

یہ اقدام ایک ایسے وقت کیے گئے جب امریکہ اور اس کے بعض اتحادی ملکوں کی تجویز پر پاکستان کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے وسائل کی روک تھام سے متعلق بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ' ایف اے ٹی ایف' کی واچ لسٹ میں شامل کیا جا رہا تھا۔

پاکستانی حکومت نے ناصرف جماعت الدعوۃ اور ا س کی ذیلی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشنپر پابندی عائد کر دی بلکہ ان کے اثاثوں کو بھی سرکاری تحویل میں لینے کے اقدام شروع کر رکھے ہیں۔

واضح رہے کہ حکومت نے گزشتہ ماہ انسدادِ دہشت گردی کے قانون میں ایک ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے ان شدت پسندوں تنطیموں پر پابندی عائد کردی تھی جن پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل تعزیرات عائد کر چکی ہے۔

جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید نےحکومت کے قانونی اقدام کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر تے ہوئے عدالت سے استدعا کر رکھی ہے کہ وہ حکومت کو ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے سے روکے۔ حافظ سعید نےاپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ یہ کارروائیاں بنیادی آئینی حقوق کے خلاف ہیں اور اس بنا پر انہوں نے مذکورہ آرڈینس کو کالعدم قرار دینے کی استدعا بھی کی۔

اگرچہ حکومت کے کسی عہدیدار کا اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان پر اقوام متحدہ کا رکن ملک ہونے کے ناتے بین لاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پابندی کرنا ضروری ہے ۔

بین الااقوامی امور کے ماہر اور پاکستان کے سابق نگران وزیر قانون احمر بلال صوفی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کہا کہ "پاکستان کے لیے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پابندی کرنا ضروری ہے اور جب بھی عدالت کسی بھی قانون یا کسی قانون کی تشریح کرے گی تو ان کو یہ بات پیش نظر رکھنا ہو گی۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "حافظ سعید کی طرف سے آرڈیننس کے خلاف کیے گئے قانونی چیلنج کے جواب میں میرے خیال میں پاکستان کے اٹارنی جنرل کا دفتر وہ بین الاقوامی قانون کو پیشں کرے گا اور بین الاقوامی قراردادوں کو سامنے لائے گا تو پھر عدالت ان کی روشنی میں فیصلے کر ے گی۔"

سیاسی امور کے تجزیہ کار اور سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ اگر کوئی بین الاقوامی تحفظات ہیں تو انہیں دور کرنے کے موثر اقدام کرے۔

"وہ (حکام) یہ نہیں سمجھتے کہ اس کی وجہ سے کوئی پیچیدگی ہو سکتی ہے لیکن اگر کوئی ہوئی تو نیا آرڈینسس لایا جا سکتا ہے نئی قانونی سازی کی جا سکتی ہے اور اس معاملے کو مناسب طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔"

حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ اور اس کی ذیلی تنظیم فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کا شمار ان تنظیوں میں ہوتا ہے جن پر اقوامِ متحدہ اور امریکہ تعزیرات عائد کر چکے ہیں اور حالیہ برسوں میں پاکستان کو ان کالعدم تنظیموں اور عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG