رسائی کے لنکس

پاکستان کو شدید اسموگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے: ماہرینِ موسمیات


فائل فوٹو

پاکستان میں نومبر کے مہینے کے آغاز سے میدانی علاقوں کی فضا میں گہری دھند کا سلسلہ شروع ہو جایا کرتا ہے لیکن پاکستان میں اسموگ کا تذکرہ نسبتاً نیا ہے۔

پاکستان کا دوسرا بڑا شہر لاہور ان دنوں اسموگ یعنی آلودگی کے باعث جنم لینے والی دھند کی لپیٹ میں ہے اور ماہرینِ موسمیات نے متنبہ کیا ہے کہ اگر فضائی آلودگی کو کم کرنے پر توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں ملک کے تقریباً سب ہی بڑے شہر اس آلودہ دھند کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت اور چین کے بڑے شہروں میں اسموگ اور اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدام کے بارے میں خبریں حالیہ برسوں میں سامنے آتی رہی ہیں۔

پاکستان میں نومبر کے مہینے کے آغاز سے میدانی علاقوں کی فضا میں گہری دھند کا سلسلہ شروع ہو جایا کرتا ہے لیکن پاکستان میں اسموگ کا تذکرہ نسبتاً نیا ہے۔

محکمۂ موسمیات کے سربراہ ڈاکٹر غلام رسول نے منگل کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں دھند اور آلودہ دھند (سموگ) کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کم درجۂ حرارت میں فضا میں موجود آبی بخارات دھند کا باعث بنتے ہیں لیکن جب ان پر فضائی آلودگی کے تہہ جم جائے تو یہ دھند اسموگ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

"صنعتوں سے نکلنے والا دھواں، گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، جو کھیتوں میں فصلوں کا باقی ماندہ حصہ ہوتا ہے اس کو جلا دیا جاتا ہے، یہ فضا میں کاربن کا باعث بنتا ہے۔ تو اس سے جو دھند بنتی ہے وہ زہریلی ہوتی ہے اس کو اسموگ کہتے ہیں۔"

انھوں نے بتایا کہ وسطی پنجاب میں لاہور، فیصل آباد اور گوجرانوالہ کے علاقے ایک ایسی تکون ہے جہاں صنعتیں بہت زیادہ ہیں اور زراعت بھی زوروں پر ہے جو کہ فضائی آلودگی میں بہت زیادہ اضافے کا باعث بنتی ہے۔

"چاولوں کی فصل کٹ چکی ہے۔ اس کی باقیات جسے پرالی کہتے ہیں وہ کھیتوں میں پڑی ہے۔ گنا تو شوگر ملوں میں جا چکا ہے لیکن اس کا چھلکا کھیتوں میں پڑا ہے۔ تو کسان اسے تلف کرنے کا آسان حل ڈھونڈتے ہیں اور اسے جلا دیتے ہیں۔۔۔ یہ تینوں عوامل صنعتی آلودگی، گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں اور زرعی میدانوں میں جلایا جانے والا کچرا فضا میں کاربن کا باعث بنتے ہیں۔"

ڈاکٹر غلام رسول کہتے ہیں کہ اسموگ اگر سانس کے ذریعے ناک میں یا آنکھوں میں چلا جائے تو یہ تکلیف کا باعث بنتا ہے اور اگر یہ ذرات پھیپھڑوں میں منتقل ہو جائیں تو سانس کی تکلیف بھی ہو سکتی ہے۔

ان کے بقول اگر فضائی آلودگی پر قابو نہ پایا گیا یا فضا میں آلودگی کو مناسب حد تک کم نہ کیا گیا تو ایسے حالات مستقبل میں زیادہ شدید اسموگ کا باعث بنیں گے۔

محکمۂ موسمیات کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بارش اور آندھی سے دھند اور اسموگ وقتی طور پر تو کم ہو سکتی ہیں لیکن فی الوقت ملک کے ان علاقوں میں بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG