رسائی کے لنکس

logo-print

ضمنی انتخابات کے شفاف انعقاد کو یقینی بنایا جائے گا:جسٹس جیلانی


جسٹس تصدیق حسین جیلانی نے بطور قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کے یہ ذمہ داریاں ایسے وقت سنبھالی ہیں جب آئندہ ہفتے قومی و صوبائی اسمبلیوں کی 42 نشستوں پر ضمنی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے سینیئر جج جسٹس تصدق حسین جیلانی کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کا قائم مقام سربراہ مقرر کیا گیا ہے جن سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ہفتہ کو اس عہدے کا حلف لیا۔

گزشتہ مہینے کے اواخر میں فخر الدین جی ابراہیم کے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد یہ عہدہ خالی ہو گیا تھا۔
فخر الدین ابراہیم کو گزشتہ حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں کی مشاورت کے بعد متفقہ طور پر چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا تھا اور اُنھوں نے 23 جولائی 2012ء کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ اُن کے اس عہدے کی آئینی مدت 2017ء تک تھی۔

تاہم 11 مئی کے عام انتخابات میں بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے الزامات سامنے آنے کے علاوہ گزشتہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات پر حزب مخالف کی مختلف جماعتوں کی طرف سے الیکشن کمیشن کو ہدف تنقید بنایا گیا اور بظاہر فخر الدین جی ابراہیم کے مستعفی ہونے کی یہ ہی وجہ بنی۔

جسٹس تصدیق حسین جیلانی نے بطور قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کے یہ ذمہ داریاں ایسے وقت سنبھالی ہیں جب آئندہ ہفتے قومی و صوبائی اسمبلیوں کی 42 نشستوں پر ضمنی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

جمہوریت کے استحکام اور شفافیت کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’پلڈاٹ‘ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ توقع کی جا رہی ہے کہ عام انتخابات کے انعقاد کے دوران جو خامیاں سامنے آئی تھیں اُن کی بنیاد پر الیکشن کمیشن ایسی حکمت عملی مرتب کرے گا جس سے ضمنی انتخابات کو مزید شفاف بنایا جا سکے۔

’’اگر کوئی چیز غلط ہو گی تو اس کا الزام بھی پورے الیکشن کمیشن پر جائے اور اگر چیز ٹھیک ہو گئی تو اس کا کریڈٹ بھی سب کو جائے لیکن بہرحال چیف الیکشن کمشنر کا ایک اہم کردار ہے جو بہتر طور پر کمیشن کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔‘‘

عام انتخابات کے دوران ملک کے سیاسی افق پر تیسری بڑی جماعت کے طور پر ابھرنے والی تحریک انصاف کی طرف سے اسلام آباد کے ایک حلقے سے اُمیدوار اسد عمر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ ضمنی انتخابات کے انعقاد کے لیے بہتر انتظامات کیے جائیں گے۔

’’آپ کو پتا ہے کہ الیکشن کمیشن کے سیکرٹری نے بھی کہہ دیا تھا کہ ویسے انتخابات نہیں کرا سکے جیسے وہ کرانا چاہتے تھے۔ اُمید ہے اُنھوں اس سے سیکھا ہو گا اور بہتر انتظامات کرائیں گے۔‘‘

بطور قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کا حلف اُٹھانے کے بعد جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ضمنی انتخابات کا انعقاد صاف اور شفاف ہو۔

اُنھوں نے کہا کہ حساس پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے فوج کی مدد بھی طلب کی جا سکتی ہے۔

’’میری کوشش ہو گی کہ میں اپنے حلف کے مطابق کام کروں اور انتخابات کے جو قوانین ہیں اُن کے نفاذ کو یقینی بناؤں‘‘۔

ضمنی انتخابات کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور الیکشن کمیشن کے مطابق 22 اگست کو ہونے والے انتخابات کے لیے 7622 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ ان میں سے لگ بھگ 1700 پولنگ اسٹیشنز کو حساس ترین قرار دیا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG