رسائی کے لنکس

logo-print

فاٹا کے انضمام اور اصلاحات کا عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت


نگراں وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں

پاکستان کے نگراں وزیراعظم ناصر الملک نے قبائلی علاقوں کے صوبہ خیبرپختونخوا میں انضمام کو ان علاقوں کی ترقی اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کی طرف ایک تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اس ضمن میں اہم انتظامی، قانونی اور اقتصادی معاملات پر توجہ دیں۔

گزشتہ ماہ ہی وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں کو شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا قانونی عمل مکمل ہوا تھا اور وہاں بتدریج مختلف انتظامی تبدیلیوں کے لیے سرگرمیاں جاری ہیں۔

پیر کو اسلام آباد میں نگراں وزیراعظم کی زیر صدارت قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے نفاذ سے متعلق ایک اجلاس منعقد ہوا جس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا کہ صوبائی چیف سیکرٹری محمد اعظم خان نے شرکا کو اس بارے میں پیش رفت پر تفصیل سے آگاہ کیا۔

چیف سیکرٹری نے بتایا کہ قبائلی ایجنسیوں اور نیم قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا کے اضلاع اور سب ڈویژن میں تبدیل کر دیا گیا ہے جب کہ پولیٹکل ایجنٹس اور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹس کے عہدوں کو ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کے طور پر بدل دیا گیا ہے۔

مزید برآں قبائلی علاقوں میں مقامی انتظامیہ کو ہر قسم کے ٹیکسز اور راہداری وصول کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے اور چیف سیکرٹری کے بقول عدلیہ، پولیس اور جیل سروس کے دائرہ کار کو بھی ان قبائلی اضلاع تک پہنچانے کے لیے مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔

اجلاس میں شریک فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے عہدیدار نے شرکا کو ان علاقوں میں پانچ سال تک ٹیکسز معاف کیے جانے کے معاملات کے بارے میں آگاہ کیا جب کہ وزارت خزانہ کے سیکرٹری نے انضمام کے عمل کے دوران ان علاقوں کو فنڈز کی فراہمی سے متعلق امور پر بریفنگ دی۔

بیان کے مطابق ان سارے امور کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے اسے جلد از جلد یہ عمل مکمل کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG