رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں یومِ دفاع کی تقریبات، کشمیریوں سے اظہار یکجہتی


فائل فوٹو

پاکستان میں پڑوسی ملک بھارت سے 1965 میں لڑی جانے والی جنگ کی یاد میں یومِ دفاع و شہدا منایا جارہا ہے۔ اُس مناسبت سے ملک بھر میں مختلف تقاریب کا انعقاد کیا گیا ہے۔

پاکستان میں ہر سال 6 ستمبر کو یومِ دفاع منایا جاتا ہے۔ اس سال اس دن کو ’ آؤ شہیدوں کے گھر چلیں‘ کا نام دیا گیا ہے جس کے تحت وفاقی وزرأ اور فوجی و سول افسران ملک کے لیے جان قربان کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں کے گھر جا کر اُنہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

یومِ دفاع کے سلسلے میں پاکستان فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) میں مرکزی تقریب منعقد ہوئی جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سینئر فوجی حکام شریک ہوئے۔

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر تکمیلِ پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ پاکستان کشمیر کو کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ " قیامِ پاکستان سے لے کر بقائے پاکستان تک کا سفر ہمارے شہدا کی قربانیوں سے سجا ہوا ہے۔ جب بھی ضرورت پڑی، وطن کے بیٹوں نے لبیک کہا ہے۔ پاکستان کی بنیادوں میں شہیدوں کا لہو شامل ہے۔"

اُن کا کہنا تھا کہ جب تک ہمارے پاس ایسے والدین موجود ہیں جو وطن پر جان قربان کرنے والے سپوت پیدا کرتے ہیں، تب تک پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

جنرل باجوہ نے کہا کہ پاکستان امن اور سلامتی کا پیغام دیتا ہے۔ یہ پیغام پورے خطّے اور دنیا کے لیے ہے۔

کشمیر سے متعلق جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ریاستی دہشت گردی عروج پر ہے۔ بھارتی اقدامات سے خطے میں جنگ اور بد امنی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

انہوں نے مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عالمی تنظیموں کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔

جنرل باجوہ نے مزید کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے۔ پاکستان نے اپنی ذمّہ داریاں ادا کی ہیں اور خطّے میں پاکستان کا کردار مثبت رہا ہے۔

آرمی چیف نے کہا افغان مصالحتی عمل میں بھی پاکستان کا بھرپور کردار ہے۔ امید ہے کہ افغانستان میں جلد امن قائم ہوجائے گا۔

پاکستان کے یومِ دفاع کے موقع پر صدر عارف علوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ یومِ دفاع قومی ولولوں کی یاد تازہ کرنے کا دن ہے، آج عہد کرتے ہیں کہ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلا کر رہیں گے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ دنیا کو بتا دیا ہے کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن ہم اپنی سلامتی اور خود مختاری پر سمجھوتا نہیں کریں گے، قوم دشمن کی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG