رسائی کے لنکس

پاکستان کی آبادی پونے اکیس کروڑ سے بڑھ گئی


مردم شماری پر معمور اہلکاروں کے تحفظ کے لیے فوج کے اہلکار بھی ہر ٹیم کے ساتھ تعینات کیے گئے تھے۔

مردم شماری: گزشتہ 19 سالوں میں پاکستان کی آبادی 57 فیصد اضافے کے ساتھ 20 کروڑ 77 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ ملک بھر میں خواجہ سراؤں کی تعداد 10 ہزار سے زائد ہے.

شماریات بیورو نےچھٹی مردم شماری 2017 کے عبوری نتائج کا اعلان کردیا ہے جس کے تحت پاکستان کی کل آبادی 20 کروڑ 77 لاکھ 74 ہزار 520 نفوس پر مشتمل ہے، جن میں 10 کروڑ 64 لاکھ 49 ہزار 322 مرد اور 10 کروڑ 13 لاکھ 14 ہزار 780 خواتین ہیں۔

شماریات بیورو کی جانب سے جاری اعداو شمار کے مطابق 1998 میں ملک کی آبادی 13 کروڑ 23 لاکھ 52 ہزار 279 تھی۔

شماریات بیور کے اعداوشمار کے مطابق خیبر پختونخوا کی کل آبادی 3 کروڑ 5 لاکھ 23 ہزار 371 افراد پر مشتمل ہے،فاٹا کی کل آبادی 50 لاکھ ایک ہزار 676، پنجاب کی کل آبادی 11 کروڑ 12 ہزار 442 افراد، سندھ کی کل آبادی 4 کروڑ 78 لاکھ 86 ہزار 51، جبکہ سب سےذیادہ رقبہ رکھنے والے صوبہ بلوچستان کی کل آبادی ایک کروڑ 23 لاکھ 44 ہزار 408 افراد پر مشتمل ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی کل آبادی 20 لاکھ 6 ہزار 572 افراد پر مشتمل ہے۔

1998 کی مردم شماری کے تناسب سے 2017 میں آبادی میں 57 فیصد اضافہ ہوا، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے آبادی کے اعداو شمار ابھی جاری نہیں کیئےگئے۔ سب سے ذیادہ آبادی کی شرح میں اضافہ وفاقی دارلحکومت میں 4.91 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں گھروں کی مجموعی تعداد 3کروڑ 22 لاکھ 5 ہزار111 ہے۔

ملک میں پہلی مرتبہ خواجہ سراؤں کا کالم بھی شامل کیا گیا تھا جس کے مطابق ملک میں خواجہ سراؤں کی تعداد 10ہزار 418 ہے ۔ ان میں سے 6 ہزار 709 پنجاب، سندھ میں 2 ہزار 527، خیبر پختونخواہ میں 913، بلوچستان میں 109 اور اسلام آباد میں 133 خواجہ سرا موجود ہیں۔

شماریات بیورو کے ریکارڈ کے مطابق شہروں میں بسنے کا رجحان بڑھ رہا ہے اور 1998 میں 32.52 کی شرح، 2017میں بڑھ کر 36.38 فیصد ہو گئی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وفاقی دارلحکومت کے شہری علاقوں میں بسنے کا رجحان کم ہو رہا ہے اور گزشتہ مردم شماری کے مقابلے میں حالیہ مردم شماری کے مطابق اسلام آباد کے شہری علاقوں میں بسنے کا رجحان 65.72 فیصد سے کم ہو کر 50.58 فیصد ہو گیا ہے۔

ملک میں سب سے ذیادہ شہر میں بسنے کا رجحان صوبہ سندھ میں ہے جہاں کی 52.02 فیصد آبادی شہروں میں بستی ہے۔

شماریات بیورو کےجاری کردہ اعداو شمار میں ملک میں رہنے والے افغان اور دیگر شہریت کے حامل لوگ بھی شامل ہیں جبکہ افغان مہاجر کیمپس اور سفارتکاروں کی تعداد کو شامل نہیں کیا گیا۔

19 سال کے تعطل کے بعد ملک میں ہونے والی اس مردم شماری کا آغاز 15 مارچ کو ہوا تھا اور اس عمل میں معاونت اور اس میں شامل اہلکاروں کے تحفظ کے لیے فوج کے اہلکار بھی ہر ٹیم کے ساتھ تعینات کیے گئے تھے۔

قوائد کے مطابق ملک میں ہر دس سال بعد مردم شماری کا انعقاد ضروری ہے لیکن پاکستان میں آخری مردم شماری 1998 میں ہوئی تھی اور پھر ملک کو درپیش حالات کی بنا پر یہ عمل موخر ہوتا رہا۔​

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG