رسائی کے لنکس

logo-print

چیف جسٹس کی جانب سے اسد منیر کی ہلاکت کا نوٹس


برگیڈیئر اسد منیر (فائل)

اہل خانہ نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا ہے کہ ’’اسد منیر نے کہا تھا کہ یہ نیب میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑتا‘‘۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آئی ایس آئی کے سابق افسر برییگیڈیٹر (ر) اسد منیر کے الوداعی خط کا نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین نیب سے جواب طلب کر لیا ہے۔

بریگیڈیئر (ر) اسد منیر کا کمپیوٹر پر لکھا گیا آخری خط سپریم کورٹ کو موصول ہوگیا ہے جس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین نیب سے جواب طلب کرلیا کہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر نے خود کشی کیوں کی؟

یہ خط ان کے اہل خانہ کی طرف سے سپریم کورٹ کو بھجوایا گیا تھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہل خاندان اس خط کی حقیقت پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ ان کے بھائی خالد منیر نے بھی اس خط کے درست ہونے کا کہا تھا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ بریگیڈیئر (ر) اسد منیر نے 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب پنکھے کے ساتھ لٹک کر خودکشی کی۔

پولیس کے مطابق اسد منیر کی خودکشی کی وجہ ابھی تک سامنے نہیں آئی۔

پولیس نے آخری خط کو مکمل ثبوت تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا، کیونکہ ٹائپ شدہ خط پر ان کے دستخط موجود نہیں تھے۔ تاہم، خط کے اوپر رومن پشتو میں جسٹس یحییٰ آفریدی تک یہ خط پہنچانے کے لیے جو تحریر لکھی گئی وہ ہاتھ سے تھی اور اہل خانہ نے یہ تحریر اسد منیر کی ہونے کی تصدیق کی تھی۔

اہل خانہ نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا ہے کہ ’’اسد منیر نے کہا تھا کہ یہ نیب میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑتا‘‘۔

بریگیڈئیر (ر) اسد منیر کے خلاف نیب کے ایگزیگٹو بورڈ اجلاس میں ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ ان کے ساتھ ساتھ سابق چئیرمین سی ڈی اے کامران قریشی کے خلاف بھی ریفرنس دائر کرنے کا کہا گیا تھا جس کی وجہ سے وہ کافی پریشان تھے۔ اسد منیر نے اپنے خط میں بھی لکھا تھا کہ 2008ء میں ایف الیون کا ایک پلاٹ اسلام آباد کے منتظم ادارے سی ڈی اے کے چیئرمین نے بحال کیا تھا۔

خط کے مطابق وہ 2006ء سے 2010ء تک سی ڈے اے کے ممبر اسٹیٹ رہے۔ اور سال 2017ء کے بعد سے نیب نے ان کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔

اسد منیرکا الوداعی خط میں کہنا تھا کہ میرا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں رکھا گیا۔ ’’نیب کی جانب سے میرے خلاف تین مقدمات میں تحقیقات اور دو انکوائریاں کی جا رہی ہیں‘‘۔

انہوں نے لکھا ہے کہ ’’میں نیب راولپنڈی میں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل، اسپیشل انویسٹی گیشن ونگ رہا۔ لیکن میرے کیس کے انویسٹی گیشن افسران غیر تربیت یافتہ اور نا اہل ہیں‘‘۔

مبینہ خط میں اسد منیر نے لکھا ہے کہ ’’میں ہتھکڑی میں میڈیا کے سامنے ذلیل ہونے سے بچنے کے لیے خود کشی کر رہا ہوں۔ میں اپنی زندگی کی قربانی دے رہا ہوں۔ اس امید کے ساتھ کہ چیف جسٹس سسٹم میں بہتری لائیں گے جہاں نیب کے کچھ افسران لوگوں کی عزت اور زندگیوں سے کھیل رہے ہیں‘‘۔

اسد منیر کی لاش انکے لواحقین کی درخواست پر پوسٹ مارٹم کے بغیر ان کے اہل خانہ کے حوالے کردی گئی جس کے بعد اسی شام اسلام آباد میں نماز جنازہ کے بعد ان کی تدفین کردی گئی۔

جمعرات کے روز پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری اور ان کی بہن آصفہ بھٹو زرداری ڈپلومیٹک انکلیو میں اسد منیر کی رہائش گاہ پر آئے اور انہوں نے اسد منیر کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔

پیپلز پارٹی کے مطابق بریگیڈئیر ریٹائرڈ اسد منیر نے نیب کے توہین آمیز سلوک سے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کی تھی۔ بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری نے غمزدہ خاندان سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ بریگیڈیئر اسد منیر کے لواحقین نے چیئرمین پیپلز پارٹی کو تمام صورتحال سے آگاہ کیا جس کی وجہ سے اسد منیر نے اقدام خودکشی کیا تھا۔

اسد منیر کی خودکشی کے بعد نیب کے خلاف آوازوں میں اضافہ ہوا ہے اور بالخصوص ان سیاسی جماعتوں کی جانب سے جو نیب کے زیر تفتیش ہیں۔ اس حوالے سے اب تک نیب کی طرف سے کوئی جواب یا وضاحت سامنے نہیں آئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG