رسائی کے لنکس

logo-print

بنت پاکستان لکھنے کا مقدمہ


تطہیر فاطمہ

پاکستان کی سپریم کورٹ میں بچپن میں والدین کی طلاق سے متاثرہ ایک لڑکی تطہیر فاطمہ نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عدالت سے درخواست کی کہ سرکاری دستاویزات سے اس کے باپ کا نام خارج کر دیا جائے کیوں کہ اس کے والدساری زندگی نہ کبھی انہیں ملے اور نہ ہی پرورش کے اخراجات دیے۔

تطہیر فاطمہ نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ اس کی قانونی دستاویزات میں اس کے نام کے ساتھ باپ کے نام کے بجائے پاکستان لکھ دیا جائے اور ایسا کوئی قانون بنا دیا جائے جو ایسے بچوں کو اپنی ولدیت کےخانے میں صرف اسی کا نام لکھنے کا حق دے جس نے اس کی کفالت کی ہو۔

عدالت نے ولدیت کے خانے سے والد کا نام لکھے جانے یا نہ لکھے جانے کے حوالے سے ضروری قانونی نکات پر کام کرنے اور ایف آئی اے کو اس کے والد شاہد انجم کو گرفتار کر کے اس کے ذرائع آمدن اور اثاثوں کی جانچ پڑتال کی ہدایت کی اور کہا کہ اس بچی کی کفالت کے تمام اخراجات اس سے وصول کیے جائیں۔

تطہیر فاطمہ کی والدہ فہمیدہ بٹ نے، جنہیں ان کے شوہر سے سولہ سال قبل طلاق ہو گئی تھی اور جنہوں نے اپنی بیٹی کو تنہا پالا ،وائس آف امریکہ کی اردو سروس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں لاکھوں بچے ایسے ہیں جو اپنے والدین میں علیحدگی یا طلاق کے بعد، اپنے والد کے ہوتے ہوئے ولدیت کے خانے میں ان کا نام نہ ہونے کی وجہ سے اپنی قانونی دستاویزات بنوانے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

تطہیر فاطمہ اپنی والدہ فہمیدہ بٹ کے ساتھ
تطہیر فاطمہ اپنی والدہ فہمیدہ بٹ کے ساتھ

انہوں نے کہا کہ ان کی عدالت میں یہ رٹ تھی کہ سپریم کورٹ، اسٹیٹ آف پاکستان، تطہیر فاطمہ جیسے ان لاکھوں بچوں کے لیے کوئی قانونی راستہ ہموار کرے جن کی سنگل مائیں اپنے بچوں کو نہ صرف خود تنہا پال رہی ہیں بلکہ وہ اپنے بچوں کی شناختی اور دوسری قانونی دستاویزات بنوانے میں بھی بہت سی دقتوں کا سامنا کر رہی ہیں اور یہ کہ نادرا اپنے سسٹم میں ایسی کوئی آپشنز لائے کہ ان جیسی عورتوں کو اپنے بچوں کے شناختی کارڈز بنوانے کے سلسلے میں کئی کئی سال عدالتوں کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔

اس مسئلے کی شدت اور وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے لائرز فار ہیومن رائٹس اینڈ لیگل ایڈ کے صدر اور انسانی حقوق کی علمبردار ایڈوکیٹ ضیا اعوان نے کہا کہ پاکستان میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بچے اس قسم کے مسائل کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ملک میں برتھ سرٹیفیکٹ کا کوئی ٹھوس سسٹم موجود نہیں ہے اور لاکھوں بچے ایسے ہیں جن کے برتھ سرٹیفیکٹ نہیں بنوائے جاتے یا ان کے برتھ سرٹیفیکیٹس میں ولدیت کے خانے میں تبدیلی کر دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے والد جان بوجھ کر یا انجانے میں یا کوتاہی میں اپنے بچوں کا ب فارم نہیں بنوا تے جس کی وجہ سے انہیں اپنے شناختی کارڈز اور دوسری قانونی دستاویزات بنوانے میں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا اس کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ پاکستان بھر میں اور خاص طور پر خیبر پختون خواہ میں یہ روایت موجود ہے کہ وہاں بچیوں کے شناختی کارڈز نہیں بنوائے جاتے اور کہا جاتا ہے کہ ان کے شناختی کارڈ ان کی شادی کے بعد بنیں گے۔

ایڈو کیٹ خالد ضیا نے کہا کہ پاکستان میں ب فارم نہ بنوانے کے حوالے سے کوئی ایسا قانون موجود نہیں ہے جس کے تحت ایسے فارم نہ بنوانے والوں کے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ ایسے بچوں کے لیے بہت سے قانونی مسائل پیدا کر رہا ہے۔ کیوں کہ شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے وہ بچے اسکولوں میں تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے، آگے پڑھ نہیں سکتے، بڑے ہو کر کہیں ملازمت نہیں کر سکتے، پاسپورٹ نہیں بنوا سکتے، آزادی سے ملک کے اندر یا باہر سفر نہیں کر سکتے۔ اس کے علاوہ اگر کبھی پولیس یا رینجرز کسی چھاپے کے دوران کچھ لوگوں کو پکڑے تو وہ سب سے پہلے انہیں جیل میں بند کرتی ہے جن کے پاس شناختی کارڈ نہ ہو اس خیال کے پیش نظر کہ وہ کوئی دہشت گرد یا کوئی مجرم نہ ہوں یا ان کا کسی دہشت گرد یا جرائم پیشہ گروپ سے کوئی تعلق نہ ہو۔ تو اس طرح ایسے بچوں یا نوجوانوں کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایڈو کیٹ ضیا اعوان نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سلسلے میں کوئی موثر قانون بنایا جائے اور ب فارم نہ بنوانے والوں کے خلاف سزائیں مقرر کی جائیں کیوں کہ اب تک سزا کے حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔

اور انسانی حقوق کی ایک سر گرم کارکن آمنہ مسعود جنجوعہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس مسئلے کو ایک گھمبیر مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ تطہیر فاطمہ کے کیس سے یہ مسئلہ اجاگر ہوا ہے اور اب انسانی حقوق کی تنظیمیں اس سسلسلے میں کسی موثر قانون سازی کے لیے زیادہ فعال طریقے سے آواز اٹھائیں گی۔

اور وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے فاطمہ تطہیر کا بھی یہ ہی کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے جس اہم مسئلے کے لیے قانونی جنگ کا سلسلہ شروع کیا ہے اس سے ان جیسے بہت سے بچوں کےلیے ایک راستہ ہموار ہو گا کیوں کہ اس کیس کے سپریم کورٹ میں دائر ہونے کے بعد ان جیسے بہت سے بچوں نے ان سے رابطہ کیا ہے اور وہ بھی ان ہی کی طرح اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔

لائیرز فار ہیومن رائٹس اینڈ لیگل ایڈ کے صدر ایڈوکیٹ ضیا اعوان نے کہا کہ بچوں کو اپنی شناخت دیے جانے کا حق حاصل ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم گزشتہ اٹھارہ سال سے گھریلو تشدد کی شکار خواتین اور بچیوں کے حقوق کے لیے کوشاں ہے اور ایسی خواتین کی مدد کے لیے ایک ہیلپ لائن موجود ہے جس پر رابطہ کرنے والی خواتین اور بچیوں کو مفت قانونی مدد فراہم کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچیوں کو شناختی کارڈ ز بنوا کر دیا جانا ان کا حق ہے اور اس حق کا ان سے چھینا جانا بھی ان کے ایک انسانی حق کی خلاف ورزی ہے۔ اس لیے ایسی خواتین اور بچیاں ان کی ہیلپ لائن سے رابطہ کر کے اپنے اس حق کے لیے ان کے ادارے سے مفت قانونی مدد حاصل کر سکتی ہیں۔

تطہیر فاطمہ کے اس مقدمے نے پاکستان کے ان لاکھوں بچوں اور نوجوانوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانے کی ایک موثر راہ ہموار کی ہے جو ولدیت کے خانے میں والد کا نام نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے قانونی سماجی اور اقتصادی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG