رسائی کے لنکس

logo-print

افغان طالبان جلد امن عمل میں شامل ہوں: سہ فریقی اجلاس


سہ فریقی اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق افغانوں کی زیرِ قیادت امن و مصالحت کی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے طالبان پر زور دیا گیا کہ وہ جلد امن عمل میں شرکت کریں۔

چین، پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے سہ فریقی اجلاس نے افغان طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ جلد افغان امن عمل کا حصہ بنیں۔

منگل کو بیجنگ میں تینوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کا پہلا سہ فریقی اجلاس منعقد ہوا۔

اس اجلاس میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف، افغانستان کے وزیرِ خارجہ صلاح الدین ربانی اور چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ژی نے باہمی دلچسپی اور علاقائی اُمور پر تبادلہ خیال کیا۔

سہ فریقی اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق افغانوں کی زیرِ قیادت امن و مصالحت کی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے طالبان پر زور دیا گیا کہ وہ جلد امن عمل میں شرکت کریں۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں تشدد کے خاتمے کا قابلِ عمل حل مذاکرات ہی سے ممکن ہے۔

پاکستان، چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ
پاکستان، چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ

تینوں ممالک نے دہشت گردی کی لعنت کے خلاف لڑنے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی گروپ یا شخص کو اپنی سرزمین کسی دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کے اجازت نہیں دیں گے۔

سہ فریقی اجلاس میں انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں تعاون کو مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا جب کہ تینوں فریق مشاورتی عمل کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق ایک مفاہمی یادداشت بھی تیار کریں گے۔

تینوں ممالک نے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مواصلاتی ڈھانچے کے منصوبے ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے۔

تینوں ملکوں نے بلاتفریق ہر طرح کی دہشت کے خلاف لڑنے کے عزم کو بھی دہرایا ہے۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے باہمی اعتماد اور مفاہمت کے لیے مل کر کام کرنے کے علاوہ سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون پر بھی اتفاق کیا۔

پاکستان، افغانستان اور چین کا دوسرا سہ فریقی اجلاس 2018ء میں کابل میں ہو گا۔

تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے پہلے سہ فریقی اجلاس کی میزبانی بینجنگ نے ایسے وقت کی جب چین پاکستان اپنے اقتصادی و معاشی مفادات کو وسعت دے رہا ہے۔

چین کے سرکاری ٹیلی ویژن ’سی سی ٹی وی‘ کے مطابق وزیرِ خارجہ وانگ نے کہا ہے کہ افغانستان، چین اور پاکستان تینوں پڑوسی ہیں اور ’’قدرتی طور پر یہ تینوں ایک دوسرے سے تعاون کو مضبوط بنانے کی کوشش کریں گے۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ یہ تمام تعاون تینوں ملکوں کے مشترکہ مفاد کے مطابق ہو گا اور ’’یہ ہمارے لیے ایک اچھی چیز ہے۔‘‘

اجلاس کے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں افغانستان کے وزیرِ خارجہ صلاح الدین ربانی نے کہا کہ دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس مشترکہ چیلنج سے نمٹنے کے لیے خطے اور اس سے باہر کے ممالک کے درمیان سنجیدہ اور عملی تعاون کی ضرورت ہے۔

افغان وزیر خارجہ کا کہنا تھا، ’’ہم نے ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف بلا تفریق لڑنے پر اتفاق کیا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ خطے میں کہیں بھی دہشت گردوں کو پناہ گاہیں یا اُن کو مدد فراہم نہیں کی جائے گی۔

پریس کانفرنس میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ سہ فریقی اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ افغانستان میں امن و استحکام خطے میں اقتصادی ترقی اور مواصلاتی رابطوں کے لیے ضروری ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردی سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے پاکستان نے سرحد کی نگرانی بڑھانے، افغان مہاجرین کی پاکستان سے واپسی اور انٹیلی معلومات کے تبادلے پر زور دیا ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ اس سہ فریقی اجلاس نے پاکستان اور افغانستان کو باہمی اُمو پر بات کرنے کا موقع فراہم کیا ہے جس کے ذریعے اسلام آباد اور کابل اعتماد سازی کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے تعاون کو وسعت دے سکتے ہیں۔

واضح ہے کہ چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ژی نے رواں سال جون میں پاکستان اور افغانستان کا دورہ کیا تھا جس میں تینوں ممالک نے باہمی رابطوں کا ایک طریقۂ کار وضع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے ایک مختصر بیان میں کہا ہے کہ بیجنگ میں پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ کے درمیان دوطرفہ ملاقات بھی ہوئی ہے جس میں علاقائی اور بین الاقوامی اُمور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

چین اپنے ’بیلٹ اینڈ روڈ‘ پروگرام کے تحت چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے پر کام کر رہا ہے جس کے تحت بیجنگ پاکستان میں لگ بھگ 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG