رسائی کے لنکس

چین میں پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے لیے پشاور میں مظاہرہ


چین میں قید پاکستانی قیدیوں کے تبادلے کے لیے پشاور میں مظاہرہ۔ 20 فروری 2018

عمر فاروق
چین میں قید پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے لئے پشاور پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجي مظاہرہ ہوا جس میں ملک بھر سے قیدیوں کے رشة داروں نے شرکت کی۔ ان کے ہاتھوں میں بینرز تھے جس پر انسانی ہمددردی کی بنیاد پر قیدیوں کی پاکستان منتقلی کی اپیلیں تھیں۔

جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس فار پرزنرز جو کہ بیرونی ملک قید پاکستانیوں کے لواحقین کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے، اس کے صدر سہیل اختر نے وائس اف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "حکومت پاکستان چین میں قید یوں کو فوری طور پر واپس لائے اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

انہوں نے کہا اب تک چین کی جیلوں میں 3پاکستانی قیدیوں ہلاک ہو چکے ہیں۔2009 میں رضوان نامی شخص کی لاش پاکستان لائی گئی مگر باقی قیدیوں کی لاشیں بھی لواحقین کو نہیں دی گئیں۔ جبکہ قیدیوں کے تبادلے پر پاکستان اور چین کے درمیان 2005میں ایک معاہدہ ہوا تھا جس پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔

چین میں قید پاکستانی قیدیوں کے تبادلے کے لیے پشاور میں مظاہرہ
چین میں قید پاکستانی قیدیوں کے تبادلے کے لیے پشاور میں مظاہرہ

جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس فار پرزنرز کے صدر سہیل اختر کے چھوٹے بھائی بھی چین میں قید ہیں۔ انہوں کہا کہ تقریباً 450سے زائد پاکستانی جن میں 16 عورتیں بھی شامل ہیں چین میں قید ہیں اور حکومت ان کی واپسی کے لیے کچھ نہیں کر رہی۔

مظاہرین نے پاکستان کی حکومت پر زور دیا کہ وہ قیدیوں کی وطن واپسی کے لیے اقدامات کرے تا کہ وہ اپنی باقی ماندہ سزا اپنے ملک میں ہی کاٹ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم چین کے اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ دوستي کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر معاہدے پر عمل کرے تاکہ 450خاندان سکون کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں"۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG