رسائی کے لنکس

پاکستان: چینی شہریوں کو ویزوں کا اجرا سخت کرنے کا فیصلہ


(فائل فوٹو)

وزیر داخلہ چوہدری نثار کی سربراہی میں بدھ کو ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں چینی شہریوں کو ’’بزنس اور ورک ویزوں‘‘ کے اجرا کے لیے شرائط اور تقاضوں پر نظرثانی کے بارے میں اہم پالیسی فیصلے کیے گئے۔

پاکستان کی وزارت داخلہ نے چینی شہریوں کے ویزوں کے اجرا اور طریقہ کار کو سخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویزوں کے اجرا کے حوالے سے تمام خامیوں کو دور کرنے اور اس عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کوئٹہ سے اغوا کے بعد ایک چینی جوڑے کو قتل کرنے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم ’داعش‘ نے قبول کی تھی۔

جب کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا تھا کہ مقتول چینی شہری بزنس ویزے پر آئے تھے لیکن وہ تبلغیی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار کی سربراہی میں بدھ کو ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں چینی شہریوں کو ’’بزنس اور ورک ویزوں‘‘ کے اجرا کے لیے شرائط اور تقاضوں پر نظرثانی کے بارے میں اہم پالیسی فیصلے کیے گئے۔

وزارت داخلہ کے مطابق نئی پالیسی کا مقصد ویزوں کے اجرا کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانا اور پاکستان اور چین کے مابین ’’ویزہ فرینڈلی رجیم‘‘ کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔

وزیر داخلہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پاکستانی ویزوں کے اجرا کے لیے سفارت خانوں کو ’’گھوسٹ کمپنیوں‘‘ کی جعلی دستاویزات کی فراہمی کے بعض واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ مستقبل میں چینی شہریوں کو بزنس ویزے اور ایئر پورٹ آمد پر ویزے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے تصدیق شدہ دعوت، اسائنمنٹ لیٹر، کمرشل اتاشی اور دوسرے متعلقہ افسران کے خط پر ہی جاری کیے جائیں گے۔

چینی شہریوں کے لیے بزنس یا کاروباری ویزوں میں توسیع کے عمل کو بھی ایک طریقہ کار کے تحت لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں ’’ریجنل پاسپورٹس دفاتر‘‘ کو حاصل ویزوں میں توسیع کا اختیار فوری طور پر واپس لینے کا فیصلہ کیا گیاہے۔

نظرثانی شدہ طریقہ کار کے تحت آئندہ بزنس ویزوں میں توسیع سے متعلق تمام کیسوں کو ’’امیگریشن اینڈ پاسپورٹس ہیڈ کوارٹرز‘‘ اسلام آباد میں نمٹایا جائے گا جب کہ طویل مدت تک توسیع کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

وزارت داخلہ کی طرف سے یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو زیادہ سے زیادہ ایک سال کا ’’ملٹی پل اینٹری ورک ویزہ‘‘ جاری کرنے کا اختیار دیا جائے گا اور اس سلسلہ میں چینی حکام سے سیکورٹی کلیئرنس حاصل کی جائے گی، جب کہ متعلقہ منصوبے کے حوالہ سے بھی معلومات حاصل کی جائیں گی۔

وزیر داخلہ کی طرف سے ایک اور اہم ہدایت کوائف کا اندارج کرنے والے قومی ادارے ’’نادرا‘‘ کو بھی دی گئی ہے جس کے تحت پاکستان میں موجود چینی شہریوں کے کوائف مرتب کرنے کے کام کو تیز کیا جائے تاکہ چینی شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے سیکورٹی ایجنسیوں کو یہ کوائف فراہم کیے جا سکیں۔

وزارت داخلہ کی طرف سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے یعنی ’’سی پیک‘‘ سے جڑے مختلف منصوبوں کے لیے پاکستان آنے والے چینی شہریوں کی معلومات کی فراہمی کے لیے ایک جامع طریقہ وضع کیا جائے گا۔

پچاس ارب ڈالر مالیت سے زائد کے چین پاکستان اقتصادی راہدای سے جڑے منصوبوں کے سلسلے میں بڑی تعداد میں چینی شہری بھی پاکستان آرہے ہیں جو ملک کے مختلف علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔

جب کہ آنے والے مہینوں اور برسوں میں ان منصوبوں پر کام کے لیے پاکستان آنے والے چینی شہریوں کی تعداد میں مزید اضافہ بھی متوقع ہے۔

پاکستانی حکومت کی طرف سے پہلے ہی چین پاکسستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحفظ کے لیے ہزاروں اہلکاروں پر مشتمل خصوصی فورس تشکیل دی جا چکی ہے، اور پاکستانی حکام یہ کہتے رہے ہیں کہ ملک میں چینی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG