رسائی کے لنکس

logo-print

سی آئی اے کے دو سابق عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت


ڈپٹی اٹارنی جنرل فضل الرحمن نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ عدالت نے پولیس کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

پاکستان کی ایک عدالت نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے اسلام آباد میں سابق اسٹیشن چیف کے خلاف ایک مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی نے جمعرات کو یہ ہدایت 2010 میں دائر کی گئی اس درخواست پر سماعت مکمل کرتے ہوئے کی جس میں شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے کریم خان نے ایک مشتبہ ڈرون حملے میں اپنے بھائی اور نوجوان بیٹے کی ہلاکت پر کارروائی کرنے کی استدعا کی تھی۔

کریم خان کے وکیل شہزاد اکبر نے وائس آف امریکہ کو گفتگو میں دعویٰ کیا کہ عدالت عالیہ نے پاکستان میں دو سابق امریکی عہدیداروں کے خلاف قتل اور بعض دیگر الزامات کے تحت مقدمہ درج کرنے کا کہا۔

"ڈرون حملوں کی چونکہ کسی عالمی قوانین کے تحت کوئی حیثیت نہیں اور اس بات پر سارے متفق ہیں تو اس پر ہم نے درخواست دی تھی لیکن پولیس نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔ ۔ ۔ ہائی کورٹ سے ہمیں یہ فیصلہ ملا کہ اس پر مقدمہ درج کیا جائے کیونکہ یہ قابل دست اندازی پولیس جرم ہے۔"

لیکن وفاقی حکومت کی طرف سے عدالت میں پیش ہونے والے ڈپٹی اٹارنی جنرل فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ عدالت نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا بلکہ پولیس کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

"ہم نے عدالت کو بتایا کہ قبائلی علاقوں میں سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے فیصلوں کا اطلاق نہیں ہوتا اور یہ جو واقعہ ہوا ہے، یہ حملہ وہاں ہوا قتل وہاں ہوئے تو وہاں ایف آئی آر ہوسکتی ہے اسلام آباد میں نہیں لیکن جج صاحب نے کہا کہ حدود کے معاملے کو بعد میں دیکھیں گے انھوں نے ایس ایچ او سے پوچھا کہ یہ قابل دست اندازی جرم بنتا ہے تو وہ کوئی واضح جواب نہ دے سکا تو انھوں نے کہا یہ درخواست ہے اس پر قانون کے مطابق کارروائی کریں۔"

سابق اسٹیشن چیف عدالتی کارروائی کی وجہ سے اپنی شناخت افشا ہونے کے بعد اطلاعات کے مطابق دسمبر 2010 میں پاکستان چھوڑ گئے تھے اور بظاہر یہ مشکل نظر آتا ہے کہ مقدمہ درج ہونے کی صورت میں وہ الزامات کا سامنا کرنے کے لیے پاکستان واپس آئے۔

کریم خان کا بیٹا ذہین اللہ اور بھائی آصف اقبال 31 دسمبر 2009ء کو شمالی وزیرستان میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد وہ قبائلی علاقے میں ڈرون طیاروں کے حملوں کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے سامنے آئے۔

ایک دہائی سے افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں مشتبہ امریکی ڈرون حملے ہوتے رہے ہیں جس میں القاعدہ سے منسلک کئی اہم شدت پسند کمانڈر مارے جا چکے ہیں۔ تاہم ان حملوں میں ہونے والی شہری ہلاکتوں پر مقامی و بین الاقوامی سطح پر کئی تنظیمیں آواز اٹھاتی رہی ہیں۔

امریکہ ڈرون کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم ہتھیار تصور کرتا ہے جب کہ پاکستان ان حملوں کو اپنی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی بندش کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ رواں سال اب تک پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا۔ گزشتہ سال اکتوبر میں نیویارک میں امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات میں پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے ڈرون حملوں کی بندش کا معاملہ بھی اٹھا یا تھا۔
XS
SM
MD
LG