رسائی کے لنکس

کیا سخت سینسر پالیسی سنیما کی بحالی میں رکاوٹ ہے؟


فلم بینوں کا کہنا ہے کہ پابندی کے بعد زیادہ ذوق و شوق سے لوگ ان فلموں کو دیکھتے ہیں۔ اور نہیں تو انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کر کے ہی انہیں دیکھا جاتا ہے۔ ایسے میں نقصان تو صرف سنیما ہالزکو ہوتا ہے۔

سخت سینسر پالیسی ایک مرتبہ پھر پاکستان میں سنیما کی بحالی میں رکاوٹ بننے لگی ہے جس سے نئی نسل کے فلم بین ناراض نظر آتے ہیں۔

فلم بینوں کا کہنا ہے کہ یہ کیسی پالیسی ہے کہ جن فلموں پر سینسر پالیسی کی وجہ سے پابندی لگ جاتی ہے وہی فلمیں کیبل ٹی وی پر گھر گھر دیکھی جاتی ہیں اور ریلیز کے دوسرے، تیسرے دن ہی ان کی نمائش ممکن ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ بعض فلمیں تو ریلیز سے پہلے ہی کیبل پر دکھا دی جاتی ہیں تو پھر ایسی پالیسی اور پابندی لگانے کا کیا فائدہ ہے؟

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بعض فلم بینوں کا کہنا تھا کہ پابندی کے بعد زیادہ ذوق و شوق سے لوگ ان فلموں کو دیکھتے ہیں۔ اور نہیں تو انٹرنیٹ سے ڈاؤن لوڈ کر کے ہی انہیں دیکھا جاتا ہے۔ ایسے میں نقصان تو صرف سنیما ہالزکو ہوتا ہے۔ اگر یہی صورتِ حال رہی تو سنیما کی بحالی کس طرح ممکن ہوسکے گی؟

ایک نوجوان فلم بین لائبہ کہتی ہیں، "سوال یہ ہے کہ کیا پابندی لگانے سے ان فلموں کو واقعی دیکھنے سے لوگوں کو روکا سکتا ہے؟ شاید نہیں۔ کیونکہ جب بھی کسی فلم پر پابندی لگتی ہے اسے دیکھنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔ لوگوں میں تجسس بڑھ جاتا ہے کہ آخر اس فلم میں ایسا کیا ہے جو پابندی لگی۔۔۔ یہیں سے انٹرنیٹ سائٹس پر سرچ شروع ہوتی ہے۔ ڈاؤن لوڈنگ میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ کیبل آپریٹرز سے فرمائشیں بڑھ جاتی ہیں اور کسی نہ کسی طرح لوگ اس فلم کو دیکھنے میں کامیاب ہو ہی جاتے ہیں۔ نقصان یہ ہوتا ہے کہ کہیں ’پیڈ مین‘ جیسی فلموں کو روک کر خواتین میں آگاہی رک جاتی ہے تو کہیں نئی نسل کو مسائل کے حل سے دور ہونا پڑتا ہے۔"

پاکستان میں پچھلے ایک سال کے دوران اب تک نو فلموں کی نمائش پر پابندی لگ چکی ہے۔ پابندی کا شکار ہونے والی حالیہ فلم بالی وڈ اسٹار انوشکا شرما کی ’پری‘ ہے جو بھارت سمیت دنیا بھر میں ریلیز ہوگئی سوائے پاکستان کے۔

پاکستان میں اس کی ریلیز نہ ہونے کی وجہ نسر بورڈ کی طرف سے اجازت نہ ملنا ہے۔

چیئرمین سینسر بورڈ مبشر حسن نے ایک ٹوئیٹ کے ذریعے فلم ’پری‘ کو پاکستان میں نمائش کے لیے ’ان فٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’پری‘ کے ڈائیلاگ اور کچھ مناظر سماجی، مذہبی اور اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں اس لیے بورڈ نے ’پری ‘ کو پاکستان میں نمائش کے لیے ناموزوں قراردیا ہے۔"

سینسر پالیسی سے اختلاف رکھنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ سینسر بورڈ کو چاہیے کہ وہ نظریاتی فرق رکھنے والوں کو باور کرائے کہ فلم، فلم ہوتی ہے جس کا مقصد تفریح ہے لہذا اسے تفریح کے طور پر ہی لینا چاہیے۔"

ایک عام خیال کے مطابق سینسر پالیسی میں نرمی کے ساتھ ساتھ وہ طریقے بھی آزمانے کی ضرورت ہے جو دنیا بھر میں استعمال کیے جاتے ہیں خاص کر بھارت میں جہاں آئے روز فلموں پر نت نئے تنازعات جنم لیتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود انہیں آسانی سے ڈیل کرلیا جاتا ہے۔

اس کی حالیہ اور تازہ مثال فلم ’پدماوت‘ ہے جس کا نام تک تبدیل کیا گیا۔ سین بھی بار بار سینسر ہوئے۔ فلم کی نمائش کو عدالتوں میں بھی چیلنج کیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود اس کی نمائش ہوئی اور فلم نے محض تنازعات کے سبب ہی اربوں روپے کا بزنس کیا۔

فلموں کی نمائش پر پابندی کے مخالف بعض ڈسٹری بیوٹرز اور سنیما مالکان نے وی او اے کو بتایا کہ پاکستان میں ڈسٹری بیوٹرز کے لیے بالی وڈ فلمیں 60 سے 70 فی صد کمائی کا ذریعہ بنتی ہیں لیکن اس کے باوجود 12 ماہ میں 9 فلمیں نہ دکھانا ملک میں سنیما کی بحالی کے لیے دھچکا نہیں تو اور کیا ہے؟

پاکستان سینسر بورڈ نے حالیہ کچھ عرصے میں جن فلموں کی نمائش پر پابندی عائد کی ہے ان میں اکشے کمار کی ’پیڈ مین‘، سلمان خان کی ’ٹائیگر زندہ ہے‘، پارٹیشن 1947، ’ٹیوب لائٹ‘، ’نام شبانہ‘، ’جولی ایل ایل بی2‘، ’رئیس‘ اور ’دنگل‘ شامل ہیں۔

چین بھارتی فلموں کے لیے ایک نئی مارکیٹ ہے لیکن وہاں بھی ’دنگل‘ جیسی کئی فلموں نے ریکارڈ توڑ بزنس کیا ہے۔ اس سے چین کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو بھی کروڑوں کا فائدہ ہوا ہے۔

چین کے بعد اب تائیوان میں بھی بھارتی فلمیں ریلیز ہونے جارہی ہیں اور اس فہرست میں بالی ووڈ ایکٹر عرفان خان اور پاکستانی ایکٹریس صبا قمر کی فلم ’ہندی میڈیم‘ کا پہلا نمبر ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG