رسائی کے لنکس

حکومت اور فوج کے بیانات، 'تعلقات میں کشیدگی کے عکاس'


وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور جنرل قمر باجوہ -فائل فوٹو

پاکستان میں فوج اور حکومت کے درمیان مختلف معاملات پر بیان بازی کے بعد صورتحال ایک بار پھر کشیدہ نظر آرہی ہے۔ تازہ ترین معاملہ ملک کی اقتصادی حالت کا ہے جس کے بارے میں وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال نے واشنگٹن سے بھیجے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو معیشت پر بیانات اور تبصروں سے گریز کرنا چاہیے۔

ایک روز قبل ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ایک نجی ٹی وی چینل پر گفت گو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملکی معیشت کی حالت اگر بری نہیں تو بہت اچھی بھی نہیں ہے۔ اس معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو معیشت پر بیانات اور تبصروں سے گریز کرنا چاہیے کیوں کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہے اور غیر ذمہ دارانہ بیانات پاکستان کی عالمی ساکھ متاثر کر سکتے ہیں جب کہ آئی ایم ایف پروگرام پر جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ 2013 کے مقابلے میں معیشت بہت بہتر ہے جب کہ ملک میں توانائی کے منصوبوں اور بجلی کی فراہمی سے صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری سے درآمدات پر دباوٴ پڑا ہے مگر یہ قابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے ترقیاتی بجٹ پر عمل ہو رہا ہے، ٹیکسوں کی وصولی میں دو گنا سے زائد اضافہ ہوا ہے جب کہ سیکیورٹی آپریشنز کے لئے بھی وسائل فراہم کئے جا رہے ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کے علاوہ دو روز قبل ایف پی سی سی آئی اور آئی ایس پی آر کے اشتراک سے کراچی میں ایک سیمینار ہوا تھا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خطاب کیا اور ملکی معیشت کی مشکل صورتحال پر بات کی تھی۔

اس سے قبل احتساب عدالت میں داخلے کی اجازت نہ ملنے پر وزیرداخلہ نے رینجرز کے رویے پر سخت برہم ہو کر ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست کے اندر ریاست بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

علاوہ ازیں فوج کے ترجمان نے رکن قومی اسمبلی محمد صفدر کی طرف سے احمدیوں کو افواج میں بھرتی کرنے سے متعلق دیے گئے بیان کی بھی نفی کی اور میجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پاک فوج میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں جو "جب وردی پہن لیتے ہیں تو صرف پاکستانی بن جاتے ہیں۔"

وزیرداخلہ کے ڈی جی آئی ایس پی آر کے "خلاف" بیان کے بعد حکومت مخالف جماعت پاکستان تحریک انصاف بھی فوری ایکشن میں نظر آئی اور کچھ ہی دیر بعد اس کے ایک مرکزی راہنما اسدعمر کی طرف سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ دوسروں کو نصیحتوں کی بجائے اپنا قبلہ درست کریں تو بہتر ہوگا۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ "طائر لا ہوتی ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف کے در پر سجدہ ریز ہونے جارہا ہے، تجارتی خسارہ ریکارڈ پر ریکارڈ توڑے جارہا ہے، رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ کا تجارتی خسارہ گزشتہ برس کے ریکارڈ خسارے سے بھی 20 فیصد زیادہ ہے۔"

ایسے مواقع پر بیان دینے میں عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید بھی پیچھے نہ رہے اور فوراً ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ملک کا وزیر داخلہ آئی ایس پی آر کے خلاف بیان دے رہا ہے۔ "صاف صاف نہیں بتاتے کہ آرمی چیف کا بیان چبھا ہے۔"

اس جاری بیان بازی سے ظاہر ہورہا ہے کہ حکومت اور فوج کے درمیان سب کچھ اچھا نہیں ہے۔ دونوں ادارے اپنے اندر موجود اختلافات کو چھپانے کی کوشش بھی نہیں کررہے اور میڈیا میں لگاتار اس کا اظہار بھی کیا جارہا ہے۔

سینئر صحافی انصار عباسی نے اس بارے میں اپنے ٹوئٹر پیغام میں اس صورتحال پر وارننگ لکھ کر کہا کہ چیزیں خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہیں، بہتری کا سوچنا چاہیے، پاکستان کا سوچنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ "میری سول اور ملٹری قیادت سے درخواست ہے کہ وہ مل کر بیٹھیں اور معاملات کو حل کریں، کھلے عام ایسی لڑائی سے صرف پاکستان کو نقصان ہوگا۔"

انصار عباسی نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ وہ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کریں اور بند کمرے میں بیٹھ کر تمام معاملات پر بات کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG