رسائی کے لنکس

logo-print

’این جی اوز کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے‘


پاکستان سول سوسائٹی فورم کی پریس کانفرنس

پاکستان میں انسانی حقوق کی سرگرم تنظیموں نے ملک میں مبینہ طور پر سول سوسائٹی کے گرد گھیرا تنگ کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان میں سول سوسائٹی فورم (پی سی ایس ایف) نے ملک میں سوسائٹی کے سرگرم کارکنوں خاص طور پر ملکی اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کو کام کرنے سے روکنے پر کہا ہے کہ یہ اقدام اُن کے بقول سول سوسائٹی کی آواز دبانے کے مترادف ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حال ہی میں پاکستان کی طرف سے 20 سے زائد بین الاقومی غیر سرکاری تنظیموں کو کام کرنے سے روک دیا گیا۔

پاکستان کی وزارت داخلہ کی طرف سے کم از کم 23 غیر سرکاری تنظیموں بشمول ایکشن ایڈ اور پلان انٹرنیشنل کو اپنا کام بند کرنے کا کہا گیا ہے۔

اس اقدام پر انسانی حقوق کی ایک سرگرم کارکن حنا جیلانی نے کہا کہ جن غیر سرکاری تنظیموں کو کام سے روکا گیا اُنھیں اس کی ٹھوس وجہ نہیں بنائی گئی۔

’’این جی اوز بہت سا جو کام کرتی ہیں وہ ریاست کی استعداد کار بڑھانے اور لوگوں کا دکھ درر دور کرنے کے لیے کرتی ہیں، اس کا فائدہ بالآخر ریاست کو ہوتا ہے۔‘‘

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ مقامی اور بین الاقومی غیر سرکاری تنظیموں کے حوالے سے جو پالیسی بنائی گئی اُس میں سول سوسائٹی کی رائے کو شامل نہیں کیا گیا۔

’’وہ غیر سرکاری تنظیمیں جو حکومت کے اداروں، جمہوریت کے فروغ اور آزادی اظہار کے لیے کام کرتی ہیں اُن پر پابندی ہے۔‘‘

انسانی حقوق کے ایک سرگرم کارکن اور سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ ملک کو تنہائی کی جانب جو پالیسیاں لے جا رہی ہیں اُن میں سے ایک سول سوسائٹی کے لیے کام کرنے کی مواقع کو محدود کرنا بھی ہے۔

’’یہ پارلیمنٹ کے سامنے آپ لے آئیں، وہاں بحث ہو۔ جو ملک اور عوام کا مفاد ہے۔۔۔ میڈیا اس پر بحث کرے، جو ٹھیک باتیں ہوں وہ قبول کی جائیں جو ٹھیک نا ہو اُن کو رد کیا جائے یہ طریقہ نہیں ہے کہ آپ غیر سرکاری تنظیموں کا بازو مروڑیں اور گلہ گھونٹیں۔‘‘

وزارت داخلہ کی طرف سے سول سوسائٹی کی اس تشویش پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

رواں سال کے وسط میں پاکستان کی وزارت داخلہ نے ملک میں کام کرنے والی 23 بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں یعنی ’’آئی این جی اوز‘‘ کو کام کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق 73 ’’آئی این جی اوز‘‘ کو ملک میں کام کرنے کی اجازت دی گئی۔

تقریباً دو سال قبل پاکستان کی وفاقی حکومت نے بین الاقوامی این جی اوز کو ملکی قوانین کے دائرے میں لانے کے عمل کا آغاز کیا تھا اور ان کے اندراج کا ایک نیا نظام متعارف کرایا تھا تاکہ ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کی جا سکے۔

اسی سلسلے میں پاکستان میں کوائف کا اندارج کرنے والے قومی ادارے ’نادرا‘ سے کہا گیا تھا کہ ملک میں کام کرنے والی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کی نگرانی کے لیے آن لائن نظام وضع کیا جائے۔

پاکستان کی حکومت نے 2015ء کے وسط میں بچوں کے لیے کام کرنی والی بین الاقوامی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ کا اسلام آباد کا دفتر بھی چند ہفتوں کے لیے سیل کر دیا تھا مگر بعد میں اسے چند مخصوص علاقوں میں کام کرنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG