رسائی کے لنکس

logo-print

فیصلہ خلاف آئے تو عدلیہ کو بدنام نہ کریں: چیف جسٹس


چیف جسٹس ثاقب نثار (فائل فوٹو)

پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ عدالتیں قانون اور آئین کے مطابق فیصلے کرتے ہیں اور توقع کے خلاف فیصلہ آنے پر عدلیہ کو الزامات کا نشانہ بنانے سے اجتناب برتا جائے۔

ہفتہ کو لاہور پاکستان بار کونسل کی طرف سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے بظاہر عدلیہ پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلوں پر سوچے سمجھے بغیر ٹی وی پر تبصرے شروع کر دیے جاتے ہیں جب کہ عدالتیں قانون کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔

ان کے بقول عدلیہ پر کوئی دباؤ نہیں اور ہر جج فیصلہ کرنے میں آزاد ہے اور عدلیہ کسی منصوبے کا حصہ نہیں۔

"ہم کسی منصوبے کا حصہ نہیں ہیں۔ اگر جمہوریت نہیں تو آئین نہیں، ہم نے جمہوریت کی قسم کھائی ہے۔ منصوبہ ساز کہاں سے آ گئے؟ دباؤ کہاں سے آ گئے؟"

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ذرائع ابلاغ میں عدالتی فیصلوں پر تبصرہ کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ تفصیلی مطالعہ کیے بغیر باتیں کرتے ہیں اور وہ حقیقت سے مکمل آگاہ نہیں ہوتے۔

رواں سال سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد سے حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے اراکین عدلیہ پر تنقید کرتے آ رہے ہیں جب کہ ایک روز قبل شریف خاندان کے حدیبیہ پیپر ملز سے متعلق مقدمے کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کرنے کے فیصلے پر حزب مخالف سمیت بعض مبصرین تنقید کر رہے تھے۔

تاہم چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ 'پہلے حدیبیہ کا فیصلہ آگیا جس کا مجھے معلوم نہیں تھا، اگر کسی کا زور چلتا تو حدیبیہ کا فیصلہ ایسا نہ آتا جیسا آیا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی وجہ سے ریاستی اداروں کو تحفظ حاصل ہے اور اگر جمہوریت کو نقصان پہنچتا ہے تو آئین بھی برقرار نہیں رہے گا لہذا وکلا اور جج صاحبان اپنے ادارے کو مضبوط بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ دو دہائیوں میں پیشہ وارانہ مہارت کے معیار میں انحطاط واقع ہوا ہے۔ انہوں نے قانون کے شعبے میں تبدیلی کا آغاز کیا لیکن عدالتی مداخلت سے نتائج حاصل نہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کی بہتری کے لیے تجاویز کے لیے ان کے دروازے کھلے ہیں اور یہ ان کا فرض ہے کہ لوگوں کو انصاف دیا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG