رسائی کے لنکس

اقتصادی راہداری سے جڑے تنازعات کے قانونی حل کے لیے اجلاس طلب


چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار (فائل فوٹو)

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ ملک کے لیے بہت اہم ہے اور وہ اس منصوبے سے جڑے مختلف تنازعات کے حل کے لیے قانونی لائحہ عمل ترتیب دینے کا سوچ رہے ہیں۔

منگل کو چکوال کے قریب واقع کٹاس راج کے مقام پر ہندوؤں کے ایک مقدس تالاب کے خشک ہو جانے کے معاملے کے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ انھوں نے تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو مدعو کیا ہے تاکہ اقتصادی راہداری منصوبے کے حوالے سے سامنے آنے والے تنازعات کے حل کے لیے قانونی لائحہ عمل کی بابت مشاورت کی جا سکے۔

یہ اجلاس ہفتہ کو اسلام آباد میں منعقد ہو گا۔

اربوں ڈالر کے اس منصوبے کے تحت چین کے شہر کاشغر سے پاکستان کے جنوب مغربی ساحلی شہر گوادر تک مواصلات، صنعتوں اور بنیادی ڈھانچے کا جال بچھایا جا رہا ہے۔

حکومت نے بھی اس منصوبے سے متعلق خاص طور پر چھوٹے صوبوں کی شکایات اور تحفظات دور کرنے کے لیے اقدام کیے ہیں جب کہ پارلیمان کے نمائندوں پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی بھی اس منصوبے کی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہی ہے۔

ملک کی سیاسی و عسکری قیادت اس عزم کا اظہار کرتی آئی ہے کہ تمام تر اندرونی و بیرونی خطرات کے باوجود اس منصوبے کو ہر صورت پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔

سلامتی کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقتصادی راہداری کے منصوبے پر کام کرنے والے غیر ملکیوں اور ان کی جائے کار پر تحفظ فراہم کرنے کے لیے خصوصی فورس بھی تشکیل دی جا چکی ہے۔

لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے اعلیٰ ترین منصف کی طرف سے اس منصوبے کی بابت اظہار خیال کیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG