رسائی کے لنکس

logo-print

' پاک افغان تجارتی حجم میں دو برسوں میں نمایاں اضافہ ہوا'


فائل

پاکستان کے دفتر خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے باہمی تجارت کے حجم میں گزشتہ دو برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پاکستان کے دفترخارجہ کے ترجمان کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاک افغان تجارت سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کی باہمی تجارت کے حجم میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے جمعرات کو معمول کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ افغانستان کے لیے پاکستانی برآمدات میں نومبر 2016ء سے اکتوبر 2017ء میں ایک سال پہلے اس عرصے کے مقابلے میں 9 فیصد اضافہ ہوا۔ دوسری طرف اسی عرصے کے دوران افغانستان سے پاکستان درآمد ہونے والے اشیاء میں لگ بھگ 118 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال افغانستان میں تازہ فروٹ کی ایک ریکارڈ پیدوار ہوئی جس کے بعد پاکستان اور افغانستان کے چیمبر آف کامرس نے اضافی فروٹ کو پاکستان اور بعد ازاں دیگر ملکوں میں برآمد کرنے کے خصوصی انتظامات کیے۔

دوسری طرف پاکستان افغانستان مشترکہ چیمبر آف کامرس کے بانی صدر زبیر موتی والا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور گزشتہ دو سالوں کے دوران پاک افغان تجارتی حجم میں بتدریج کمی واقع آ رہی ہے۔

"پاک افغان باہمی تجارت میں کمی ہوئی ہے ، پچھلے دو سالوں کے اعدادوشمار کے مطابق 2014-2015ء کے دوران ہمارا تجارتی حجم ڈھائی ارب ڈالر سے زائد تھا لیکن اب یہ ایک ارب 60 کروڑ تک کم ہو گیا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم کو پانچ ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے لیکن ان کے بقول اس کے لیے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کے لیے بہتری ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اس کے لیے دونوں ملکوں کو اپنے سیاسی معاملات کو تجارتی معاملات سے الگ رکھنا ہو گا کیونکہ ماضی میں پاک افغان بارڈر کے بند ہونے کے وجہ سے تاجروں کے اعتماد پر منفی اثر پڑا ہے۔"

زبیر موتی والی کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کے سبب افغانستان اپنی تجارت کے لیے ایران کا راستہ استعمال کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے فروغ کے لیے سرکاری سطح پر بھی پاک افغان مشترکہ اقتصادی کمیشن قائم ہے لیکن نومبر 2015ء کے بعد سے اس کمیشن کا کوئی اجلاس نہیں ہوا۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ پاکستان کے راستے افغان تجارت کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ کوآرڈینیشن اتھارٹی کا جلد اجلاس بلانے کے لیے افغان حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کی تجارت سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ دونوں ملک تاریخی طور پر ایک دوسرے کے تجارتی شراکت دار رہے ہیں اور اگر تعلقات میں بہتری آتی ہے تو دو طرفہ تجارت کے حجم میں اضافے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG