رسائی کے لنکس

ماہر تعلیم ڈاکٹر اے ایچ نیئر کہتے ہیں کہ طلبہ بھی اگر چھوٹی سے بات پر بگڑ جائیں تو وہ یہ اس بات کی عکاسی ہے کہ ان کے درمیان برداشت کا مادہ کم ہوتا جارہا ہے

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کی ایک بڑی یونیورسٹی میں دو طلبہ تنظیموں کے درمیان تصادم اور فائرنگ کی وجہ سے تیس سے زائد طلبہ زخمی ہوگئے جو کہ حالیہ مہیںوں میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تشدد پر مبنی تازہ ترین واقعہ ہے۔

پولیس کے مطابق ہفتہ کو یونیورسٹی میں سندھی اور بلوچ طلبہ تنطیموں کے درمیان کسی معاملے پر ہونے والی بحث پرتشدد صورت اختیار کر گئی جس میں مبینہ طور پر اسلحہ کا استعمال بھی کیا گیا۔

اسلام آباد پولیس کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورت حال کو کنٹرول کیا اور یونیورسٹی انتظامیہ نے یونیورسٹی کو غیرمعینہ عرصے کے لیے بند کر دیا ہے جب کہ ہاسٹلز کو خالی کروا لیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تین طلبہ کو گرفتار کر لیا ہے جنہیں مقامی میجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کر کے ان کا دو دن کا ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔

تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ تنازع کی اصل وجہ کیا تھی لیکن پولیس کے مطابق معاملے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

گزشتہ چند مہینوں میں ملک کے مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ایسے متعدد پرتشدد واقعات پیش آچکے ہیں۔ گزشتہ ماہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین مذہب کے الزام میں ایک طالب علم مشال خان کو یونیورسٹی کے طلبا کے ہجوم نے تشدد اور گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

قبل ازیں مارچ میں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے دارالحکومت لاہور میں واقع پنجاب یونیورسٹی میں بھی دو طلبہ تنظیموں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں متعدد طلبہ زخمی ہوئے۔

ماہرین تعلیم اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کو معاشرے میں عدم برادشت کے بڑھتے ہوئے رویوں کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔

قائد اعظم یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکٹر اے ایچ نئیر نے کہتے ہیں کہ آپس میں دوستی رکھنے والے طلبہ بھی اگر چھوٹی سے بات پر بگڑ جائیں تو وہ یہ اس بات کی عکاسی ہے کہ ان کے درمیان برداشت کا مادہ کم ہوتا جارہا ہے جو کہ ایک تشویشناک امر ہے۔

اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ " مجھے جو اندیشہ اور خرابی نظر آتی ہے اور تشویش کی بات یہ ہے کہ خرابی تعلیم یافتہ نوجوانوں میں نظر آتی ہے اور تعلیم یافتہ ہونے کے بعد بھی اگر نوجوان گفت وشنید اور دلیل پر آمادہ نا ہوں بلکہ جسمانی تشدد پر اتر آئیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کی تعلیم اور تربیت کے اندر کمی رہ گئی ہے۔ "

پروفیسر اے ایچ نیئر نے کہا کہ ناصرف معاشرے بلکہ حکومت کو بھی بہت سنجیدگی سے یہ سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہے کہ کونسی سی کمی ہے اور اسے کیسے دور کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے لیے نوجوانوں میں مختلف مسائل کو منطقی انداز سے سوچنے اور مکالمے کی روایت کو فروغ دینا ہو گا۔

گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے پاکستان کو دہشت گردی اور انہتاپسندی کے چیلنج کا سامنا ہے جس کی وجہ سے معاشرے کے دیگر طبقات کی طرح نوجواں نسل پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

جمعرات کو پاکستانی فوج نے بھی ملک میں انتہا پسندی کے خاتمے میں نوجوانوں کے کردار سے متعلق ایک سیمینار منعقد کیا تھا اور اس میں بھی نوجوانوں کے شدت پسندوں کی طرف مائل ہونے کے امکانات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے تدارک کے لیے کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG