رسائی کے لنکس

logo-print

جنرل راحیل شریف کی افغان فورسز کو تربیت کی پیشکش


’آئی ایس پی آر‘ سے جاری ایک بیان کے مطابق جنرل راحیل شریف نے افغان صدر سے ملاقات میں پاکستان کے اس موقف کو دہرایا کہ پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے جمعرات کو کابل میں افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے علاوہ افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمار سمیت دیگر اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ سے جاری ایک بیان کے مطابق جنرل راحیل شریف نے پاکستان کے اس موقف کو دہرایا کہ پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔

بعد ازاں افغانستان کے وزیر دفاع بسملہ محمدی اور چیف آف اسٹاف جنرل شیر محمد کریمی سے ملاقات میں جنرل راحیل شریف نے پاکستانی تنصیبات میں افغان سکیورٹی فورسز کو تربیت دینے کی پیشکش بھی کی۔

ملاقات میں افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد کی صورت حال پر بھی تبالہ خیال کیا گیا۔

جنرل راحیل شریف نے کابل کا یہ دورہ ایسے وقت کیا، جب حال ہی میں پاکستانی فوج کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ’ضرب عضب‘ کے آغاز کے بعد شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے افغانستان سے وہ تعاون حاصل نہیں ہوا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

پاکستان یہ کہتا آیا ہے کہ حقانی نیٹ ورک سمیت تمام دہشت گردوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جا رہی ہے۔

اُدھر افغانستان میں تعینات بین الاقوامی اتحادی افواج کے ایک کمانڈر لفٹیننٹ جنرل جوزف اینڈرسن نے بھی بدھ کو واشنگٹن میں صحافیوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرتے ہوئے کہا کہ شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کے آپریشن سے حقانی نیٹ ورک کے حملے کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ خاص طور پر کابل میں اس گروپ کے حملے کی صلاحیت کم ہوئی ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں ایک بار پھر کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف ایک جامع آپریشن میں مصروف ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان بار ہا یہ کہتا رہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں یہ تفریق نہیں کی جا رہی کہ اُن کا تعلق کس تنظیم سے ہے۔

واضح رہے کہ بدھ کو پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں امریکی محکمہ دفاع کی اس رپورٹ پر احتجاج کیا تھا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ پاکستان افغانستان اور بھارت میں اب بھی شدت پسندوں کا ’درپردہ‘ استعمال کر رہا ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جمعرات کو یہ بھی کہا کہ پاکستان افغانستان میں عدم مداخلت کی پالیسی کا کار بند ہے۔

تاہم اُنھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اسلام آباد چاہتا ہے کہ افغانستان اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سر زمین بھی پاکستان کے خلاف استعمال نا ہو۔

XS
SM
MD
LG