رسائی کے لنکس

logo-print

ملک بھر میں کارروائی جاری ’100 سے زائد دہشت گرد ہلاک‘


پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے علاقے سیہون میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر خودکش بم حملے کے بعد ملک بھر میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف ’کریک ڈاؤن‘ یعنی ایک بڑی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ سے جاری بیان کے مطابق فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے جمعرات کو جاری کردہ احکامات کے مطابق ملک بھر بشمول صوبہ پنجاب میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ’کومبنگ‘ آپریشن جاری ہیں۔

بیان دعویٰ کیا گیا کہ جمعرات کی شب سے اب تک ’’100 سے زائد دہشت گرد‘‘ مارے جا چکے ہیں۔

فوج کے مطابق حالیہ دہشت گرد حملوں کے پیچھے نیٹ ورک کا کھوج لگانے کے لیے انٹیلی جنس ایجنسیاں کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور نتائج سے آگاہ کیا جائے گا۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ دہشت گردی کے ان واقعات کا تعلق سرحد پار افغانستان سے ہے لیکن سلامتی کے خدشات کی وجہ سے پاک افغان سرحدی راستے بند کر دیئے گئے ہیں۔

افغانستان کی طرف سے اس بارے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے تاہم افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ انھوں نے ہفتہ ٹیلی فون پر وزیر اعظم نواز شریفر سے بھی رابطہ کی تھا۔

افغان حکومت کی طرف سے اس بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

اُدھر سیہون میں حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 80 سے زائد ہو گئی ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم ’داعش‘ نے قبول کی تھی۔

جب کہ وزیراعظم نواز شریف نے مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کہ ہے کہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے پوری قوت سے کارروائی کی جائے۔

اُدھر صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے جمعہ کو لاہور میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ رواں ہفتے پنجاب اسمبلی کے قریب خودکش بم حملے کے سہولت کار کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ لاہور میں حملے کی منصوبہ بندی سرحد پار افغانستان میں کی گئی۔

لاہور میں ہونے والے خودکش بم حملے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے، اس خودکش حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دھڑے جماعت الاحرار نے قبول کی تھی۔

ملک کے مختلف حصوں سے درجنوں مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے، جن میں سے لگ بھگ 40 افراد کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا۔

جمعہ کو ملک بھر بشمول وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے جب کہ داخلی اور خارجی راستوں کی کڑی نگرانی کی جاتی رہی۔

جمعہ کو ملک بھر مساجد اور امام بارگاہوں کے باہر بھی اضافی سکیورٹی انتظامات دیکھنے میں آئے اور وزیر داخلہ چوہدری نثار نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ زیارات اور مزاروں کی حفاظت کے لیے اضافی انتظامات کیے جائیں۔

سیہون میں بم دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم ’داعش‘ نے قبول کی تھی۔

رواں سال کے دوران ملک میں ہونے والا یہ سب سے مہلک خودکش بم حملہ تھا جس میں درجنوں افراد موت کے منہ میں چلے گئے جب کہ بیسیوں زخمی ہوئے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ملک میں تواتر کے ساتھ ہونے والے دہشت گرد حملوں اس بات کی غمازی ہوتی ہے کہ عسکریت پسند اب بھی مربوط حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سابق سیکرٹری خارجہ تسنیم نورانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ حکومت اور سکیورٹی فورسز کسی طور پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں نرمی نہیں برتنی چاہیئے۔

’’میں سمجھتا ہوں کہ پچھلے تین چار مہینے میں جو دباؤ تھا ان (دہشت گردوں) کے خلاف (اس میں کچھ کمی آئی) ۔۔۔۔ حکومت نےجارحانہ انداذ اختیار کیا ہوا تھا، ان کے خلاف کارروائی ہو رہی تھی ان کا کھوج لگا رہے تھے اورمیرے خیال میں حکومت کو اطمینان ہو گیا اور یہ خیال کیا گیا کہ (دہشت گردوں) نے ہار مان لی۔ لیکن اس طرح کی بات نہیں تھی ‘‘۔

رواں ہفتے لاہور میں پنجاب اسمبلی سے کچھ فاصلے پر دہشت گرد حملے کے علاوہ پشاور، مہمند ایجنسی اور کوئٹہ میں بھی عسکریت پسندوں نے کارروائیاں کی۔

ان دہشت گرد حملوں کے بعد ایک مرتبہ ملک میں خوف کے سائے منڈلانے لگے۔

تاہم وزیراعظم نواز شریف نے سیہون کے دورے کے موقع پر کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG