رسائی کے لنکس

پاکستان نے ایران کی مسلح افواج کے سربراہ کے اُس بیان پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں یہ کہا گیا تھا کہ اگر پاکستان نے دوطرفہ سرحد کی اپنی جانب شدت پسندوں کے خلاف کارروائی نا کی تو ایران پاکستانی سرزمین پر ان دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو از خود نشانہ بنائے گا۔

پیر کو ایران کی مسلح افواج کے سربراہ میجر جنرل محمد باقری کا ایک بیان سامنے آیا تھا، جس میں پاکستانی حکام سے سرحد کی نگرانی و بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کو گرفتار اور اُن ٹھکانوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

پاکستان نے اسلام آباد میں تعینات ایران کے سفیر مہدی ہنر دوست کو منگل کو وزارت خارجہ بلا کر ایرانی مسلح افواج کے سربراہ کے سامنے آنے والے بیان پر تشویش کا اظہار کیا۔

وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق ایران کے سفیر کو بتایا گیا کہ ایسے بیانات دونوں ممالک کے درمیان موجود برادرانہ تعلقات کی روح کے منافی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی رابطوں سے تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق رواں ماہ کی تین تاریخ کو ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کے دورہ اسلام آباد کے دوران سرحد کی نگرانی بہتر بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا تھا۔

پاکستان کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ ایران ایسے بیانات سے اجتناب کرے جو دوطرفہ تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں۔

گزشتہ ماہ کے اواخر میں ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں دہشت گردوں نے حملہ کر کے ایران کے 10 سرحدی محافظوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ حملہ شدت پسند تنظیم ’جیش العدل‘ نے میرجاوہ کے علاقے میں کیا۔

جہاں یہ حملہ کیا گیا وہ علاقہ پاکستانی سرحد سے لگ بھگ 75 کلو میٹر ایران کے اندر واقع ہے اور ایرانی حکام کے مطابق شدت پسند حملے کے بعد دوبارہ پاکستانی حدود میں داخل ہو گئے۔

پاکستان نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ شدت پسندوں نے یہ کارروائی ایرانی سرزمین پر کی۔

اس واقعہ پر ایران کی طرف سے شدید ردعمل دیکھا گیا، ناصرف ایران میں تعینات پاکستان کے سفیر آصف درانی کو طلب کر کے اُن سے احتجاج کیا گیا بلکہ رواں ماہ کے اوائل میں ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے 12 رکنی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان کا غیر معمولی ہنگامی دورہ کیا۔

ایران کے وفد نے وزیراعظم نواز شریف، فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر داخلہ چوہدری نثار کے ساتھ ملاقاتوں میں دوطرفہ سرحد کی نگرانی بڑھانے پر زور دیا۔

پاکستان کی طرف سے سرحد کی نگرانی کو موثر بنانے اور دونوں ملکوں کی سرحدی فورسز کے درمیان رابطوں کے لیے ’ہاٹ لائن‘ کی بحالی پر بھی اتفاق کیا گیا۔

پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ سرحد لگ بھگ 1000 کلو میٹر طویل ہے، لیکن دونوں ملکوں کے درمیان طویل سرحد کی مکمل نگرانی نا ہونے کے سبب نا صرف عسکریت پسند بلکہ جرائم پیشہ عناصر اور اسمگلر بھی دشوار گزار راستوں کو سرحد کے آر پار نقل و حرکت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG