رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان میں 8 قبائلیوں کا مبینہ قتل، پاکستان کی مذمت


(فائل فوٹو)

پاکستان کی وزارتِ خارجہ اور شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنماؤں نے سرحد پار افغانستان میں مقامی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں آٹھ پاکستانی قبائلیوں کے مبینہ قتل کی سخت مذمت کی ہے۔

پاکستانی قبائلی رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ پاک افغان سرحد پر واقع افغانستان کے تحصیل بیر مل کے گاؤں رخہ میں اتوار کی صبح افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے گھروں میں داخل ہوکر آٹھ افراد کو گرفتار کیا اور پھر انہیں ایک کھلے میدان میں فائرنگ کرکے قتل کردیا۔

مقامی افراد کے مطابق قتل کیے جانے والے افراد کا تعلق کابل خیل اتمانزئی وزیر قبیلے سے تھا۔

قبائلیوں کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کے گھر اور جائیداد سرحد کے دونوں جانب واقع ہیں اور اسی بنیاد پر ان کو دونوں ہمسایہ ممالک کی شہریت حاصل ہے۔

وائس آف امریکہ کے رابطہ کرنے پر سرحد پار افغانستان میں موجود صحافیوں نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔ لیکن افغان حکومت نے اس سلسلے میں تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

البتہ اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک ٹوئٹ میں واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ان آٹھوں بے گناہ پاکستانی قبائلیوں کو سرحد پار پکتیکا صوبے میں افغان سیکورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کرکے قتل کیا۔

ترجمان نے اپنے ایک سطری ٹوئٹ میں واقعے کی مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ آیا پاکستان اس معاملے کو افغان حکومت کے ساتھ سفارتی طور پر اٹھائے گا یا نہیں۔

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما پیر عاقل شاہ نے وائس آف امریکہ کے ساتھ بات چیت میں دعویٰ کیا ہے کہ مارے گئے تمام افراد بے گناہ تھے اور ان کا کسی دہشت گرد یا انتہا پسند تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

جنوبی وزیرستان کے احمد زئی وزیر قبائل کے رہنماؤں نے بھی منگل کو وانا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران آٹھ پاکستانی قبائلیوں کے قتل کی سخت مذمت کی اور اقوامِ متحدہ، پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں اور انسانی حقوق کے اداروں سے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

قبائلی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مارے جانے والے افراد کا تعلق شمالی وزیرستان کی تحصیل شیوہ سے تھا جو روزگار کے سلسلے میں افغانستان گئے تھے۔

قبائلی رہنماؤں نے صحافیوں کو بتایا کہ مارے جانے والوں میں ایک ہی خاندان کے چار افراد بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ سرحد پار افغانستان کے پکتیکا اور خوست صوبوں میں احمد زئی وزیر، اتمان وزیر اور دیگر قبائل سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کی تعداد میں ایسے خاندان آباد ہیں جن کی گھر اور جائیدادیں پاکستان کے شمالی اور جنوبی وزیرستان اور کرم ایجنسی میں واقع ہیں۔ ان قبائل کو دونوں ممالک کی شہریت حاصل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG