رسائی کے لنکس

پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے ’’دہشت گرد حملے‘‘ کی شدید مذمت کی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف اور فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے الگ الگ پیغامات میں کابل میں بم دھماکے کی مذمت کی جب کہ وزارت خارجہ کی طرف سے بھی ایک مذمتی بیان جاری کیا گیا۔

فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بیان میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ’’ہم افغان بھائیوں اور افغانستان کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘

وزارت خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کابل بم دھماکے سے قریب ہی رہائش پذیر پاکستانی سفارت کاروں اور عملے کی رہائشگاہوں کو بھی نقصان پہنچا ہے، جب کہ بعض کو معمولی زخم بھی آئے۔

بیان میں کہا گیا کہ بطور دہشت گردی کے شکار ملک کے پاکستان اُس دکھ اور درر کو سمجھ سکتا ہے جس کا لوگوں اور معاشرے کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔

وزارت خارجہ کے بیان میں حکومت پاکستان کے اس موقف کو ایک مرتبہ دہرایا گیا کہ پاکستان ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور کہا گیا ’’دکھ اور افسوس کی اس گھڑی میں ہم افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘

کابل کے علاقے وزیر اکبر میں منگل کی صبح ایک طاقتور بم حملے میں درجنوں افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

بارودی مواد ایک ٹرک میں نصب کیا گیا تھا۔

جس علاقے میں یہ دھماکا ہوا وہاں مختلف ممالک کے سفارت خانے اور دیگر سرکاری عمارتیں ہیں۔

تجزیہ کار اور سابق سفارت کار رستم شاہ مہمند نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ بات باعث تشویش ہے کہ بارود سے بھرا ٹرک کابل کے حساس علاقے تک پہنچنے میں کیسے کامیاب ہو گیا۔

’’سکیورٹی کا حصار توڑنے میں لوگ کیسے کامیاب ہوتے ہیں، یہ اب لمحہ فکریہ ہے۔ معاملے بڑھ رہے ہیں اور مہلک ہو رہے ہیں۔‘‘

لفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کہتے ہیں کہ اگرچہ طالبان نے اس بم حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے لیکن اُن کے بقول تشدد کے ایسے واقعات کے باعث افغان امن کی کوششیں متاثر ہوں گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ دیرپا امن کے لیے افغانستان کے مسئلے کا سیاسی حل ہی تلاش کرنا ہو گا۔

افغانستان میں حالیہ مہینوں میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان کی جانب سے پڑوسی ملک افغانستان میں سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG