رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے: پاکستان


افغان پولیس کے اہلکار 27 جنوری کو ایمبولینس بم حملے میں تباہ ہونے والی ایک عمارت کا معائنہ کر رہے ہیں۔

پاکستان نے افغان دارالحکومت کابل میں پیر کو ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے موثر تعاون اور مربوط کوششوں پر زور دیا ہے۔

پیر کو علی الصبح شدت پسندوں نے کابل میں واقع ایک فوجی تربیت گاہ پر حملہ کیا تھا جس میں 11 افغان فوجی ہلاک اور 16 دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے ایک بیان میں اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ملک کے اس موقف کو دہرایا کہ وہ ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس بات پر زور دیتا ہے کہ دہشت گردی کی لہر کو ختم کرنے کے لیے تمام ممالک کے مابین موثر تعاون اور مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔

رواں ماہ افغانستان میں ایک بار پھر تشدد کے واقعات میں تیزی دیکھی گئی ہے اور پیر کو پیش آنے والا واقعہ تین روز کے دوران دوسرا دہشت گرد حملہ تھا۔ ہفتہ کو کابل میں ایک خودکش کار بم دھماکے میں 103 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

گزشتہ ہفتے کے اوائل میں کابل میں ہی ایک پرتعیش ہوٹل پر ہونے والے حملے میں 14 غیر ملکیوں سمیت 25 افراد مارے گئے۔ ان دونوں واقعات کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔

دہشت گردی کے ان واقعات میں تیزی ایک ایسے وقت دیکھی گئی ہے جب افغان حکومت ملک میں جاری جنگ کے خاتمے اور بحالی امن کے لیے آئندہ ماہ کابل میں ایک اہم کانفرنس منعقد کرنے جا رہی ہے۔

'کابل پراسس' کے عنوان سے گزشتہ سال جون میں شروع کیے گئے اس سلسلے کا مقصد خطے کے ممالک اور بین الاقوامی قوتوں کے ساتھ مل کر تنازع کے حل کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔

پاکستان یہ کہتا آ رہا ہے کہ افغان مسئلے کا حل سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے اور اس کے لیے وہ افغانوں کی قیادت اور شمولیت سے ہر عمل کی حمایت کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔

غیر جانبدار حلقے یہ کہتے آ رہے ہیں کہ شدت پسندوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے خاص طور پر امریکہ کو ہی کلیدی کردار ادا کرنا ہے اور اس کی سنجیدہ کوششوں کے بغیر کوئی بھی عمل خاطر خواہ نتائج کا حامل نہیں ہو سکتا۔

سلامتی کے امور کے سینیئر تجزیہ کار سید نذیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ "طالبان اس وقت دو جہتی پالیسی پر کاربند نظر آتے ہیں ایک طرف سے اپنی کارروائیوں کو بڑھا کا اپنی قوت کا مظاہرہ کر رہے ہیں تو دوسری طرف وہ بات چیت کی تیاری کرتے بھی نظر آتے ہیں، انھوں نے پاکستان کا دورہ بھی کیا ترکی میں بھی ملاقاتیں کیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کی طرف سے بظاہر ایسی کوئی ٹھوس حکمت عملی نظر نہیں آ رہی جس سے وہ شدت پسندوں کو کچھ لو اور کچھ دو کے تحت مذاکرات کی میز پر لانے میں جلد کامیاب ہو سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG