رسائی کے لنکس

بھارتی فورسز کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کی ہلاکت قابلِ مذمت ہے: پاکستان


فائل

اتوار کی شب جاری ہونے والے ایک بیان میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان متعدد بار یہ بات دوہرا چکا ہے کہ کشمیری نوجوانوں کو جان بوجھ کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ان کے عزم کو متزلزل کیا جا سکے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین میں ہونے والی جھڑپوں میں متعدد کشمیری نوجوانوں کی ہلاکت پر پاکستان کے وزیراعظم شاہدخاقان نے شديد دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ایک بیان میں وزیر اعظم عباسی نے کہا کہ کشمیریوں کی ان کے بقول منصفانہ جدوجہد کو دہشت گردی سے منسوب کرنا کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ان کے خودارادیت کے حق کے حصول کے مطالبے سے نہیں روک سکتا ہے۔

پاکستانی وزیراعظم نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے جموں و کشمیرکے لیے ایک خصوصی مندوب مقررکرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ یکم اپریل کو پولیس اور مظاہرین کے درمیان شروع ہونے والی الگ الگ جھڑپوں میں 12 عسکریت پسند اور تین بھارتی فوجی ہلاک اور کئی حفاظتی اہل کار زخمی ہو گئے۔ حفاظتی دستوں کی فائرنگ میں چار شہری بھی مارے گئے۔

یہ واقعات بھارتی کشمیر کے جنوبی اضلاع شوپیان اور اننت ناگ میں پیش آئے۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ مارے گئے عسکریت پسندوں کا تعلق علیحدگی پسند تنظیموں 'حزب المجاہدین' اور 'لشکرِ طیبہ' سے تھا۔

قبل ازیں پاکستانی دفتر خارجہ نےپاکستان نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں گناہ کشمیری نوجوانوں کی ہلاک کی مذمت کرتے ہوئےبین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور اس مسئلے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

اتوار کی شب جاری ہونے والے ایک بیان میں پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان متعدد بار یہ بات دوہرا چکا ہے کہ کشمیری نوجوانوں کو جان بوجھ کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ان کے عزم کو متزلزل کیا جا سکے۔

پاکستان کے اس تازہ بیان پر بھارت کا کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم نئی دہلی قبل ازیں اسلام آباد کے ایسے بیانات کو رد کرتے ہوئے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورتِ حال کو اپنا اندرونی معاملہ قرار دیتا رہا ہے۔

اسلام آباد کا موقف ہے کہ کشمیر کا ایک متنازع علاقہ ہے اور اسلام آباد کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

مبصرین کا کہنا ہے دونوں ملکوں میں دیرینہ تناؤ اور کشیدگی کی ایک بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان دیر پا امن کے لیے اس مسئلے کو حل کرنا ضروری ہے۔

بھارتی کشمیر کی یونیورسٹی کے پروفیسر اور تجزیہ کار ڈاکٹر شیخ شوکت حسین کہتے ہیں کہ تناؤ کو کم کرنے کے لیے اگر نئی دہلی اور اسلام آباد کوئی اقدام نہیں کرتے تو اس سے پورے خطے کا امن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ" جب تک (پاکستان اور بھارت) بات چیت نہیں کریں گے تو پھر تباہی کا راستہ ہے ۔ یہ وہ زمانہ ہے جب جوہری طاقتیں ہوں تو بڑے پیمانے کی جنگ کا کوئی بھی ملک متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔"

شیخ شوکت نے مزید کہا کہ " جب ایسی صورت حال ہوکہ جب کوئی بھی ملک ایک دوسرے کو زیر نہیں کر سکتا ہے تودونوں ملکوں (پاکستان اور بھارت) کے لیے بہتر یہ ہی ہوگا اس مسئلہ کو حل کریں اگر حل نہ کیا تو کشمیر بھی تباہی کا شکار ہو سکتا ہے اور بھارت اور پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔"

امریکہ، بعض دیگر ممالک اور اقوامِ متحدہ پاکستان اور بھارت پر اپنے باہمی معاملات بات چیت سے حل کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔ پاکستان کا موقف ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پر بات چیت کرنے پر تیار ہے تاہم بھارت کی طرف سے پاکستان کی پیش کش کا کوئی مثبت رد عمل دیکھنے میں نہیں آیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG