رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ نے پاکستان کو سفارتکاروں کی نقل و حرکت محدود کرنے سے آگاہ کر دیا


پاکستان نے پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ امریکہ میں تعینات پاکستانی کاروں کی نقل و حرکت ایک مخصوص حد تک محدود کرنے کے بارے میں واشنگٹن نے اسلام آباد کو آگاہ کیا ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ ایسے اقدام جو امریکہ یکم مئی سے نافذ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اُن کے بارے میں باضابطہ طور پر امریکہ کی طرف سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ کے معاون نائب وزیرِ خارجہ برائے سیاسی امور تھامس شینن نے رواں ہفتے وائس آف امریکہ کی ازبک سروس کو بتایا تھا کہ امریکہ نے یہ پابندی پاکستان کی جانب سے امریکی سفارت کاروں کی بلا اجازت نقل و حرکت پر عائد پابندی کے جواب میں لگائی ہے۔

تاہم امریکی سفارت کاروں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے بارے میں پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کچھ کہنے سے گریز کیا۔

ترجمان محمد فیصل کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ دو طرفہ نوعیت ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ دونوں ممالک اس بارے میں رابطے میں ہیں اور ’’ہمیں اُمید ہے کہ یہ معاملہ حل ہو جائے گا۔‘‘

نقل و حرکت کو محدود کرنے سے متعلق اقدامات پر عمل درآمد کے بعد امریکہ کے جس شہر میں پاکستانی سفارتی عملہ تعینات ہو گا، وہ لگ بھگ 40 کلومیڑ کے دائرے کے اندر سفر کر سکیں گے اور اس سے باہر جانے کے لیے اُنھیں امریکی حکام سے اجازت لینا ہو گی۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں اور ان میں بہتری کے لیے دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ مل کر کام کرنے سے متعلق مشترکہ راستہ تلاش کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG