رسائی کے لنکس

logo-print

مشرف پر حملے کے ایک اور مجرم کو پھانسی دے دی گئی


رواں ماہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردانہ حملے کے بعد حکومت نے پھانسیوں پر عملدرآمد پر عائد پابندی ختم کر دی تھی جس کے بعد اب تک سات مجرموں کو پھانسی دی جاچکی ہے۔

پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور کی سنٹرل جیل میں بدھ کی صبح ایک اور مجرم کو پھانسی دے دی گئی۔ مجرم نیاز محمد سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر ناکام قاتلانہ حملے میں ملوث تھا۔

نیاز محمد پاکستان ایئر فورس کا سابق اہلکار تھا اور اسے دسمبر 2003ء میں راولپنڈی میں پرویز مشرف کے قافلے کو بم دھماکے سے اڑانے کے جرم میں فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔

رواں ماہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردانہ حملے کے بعد حکومت نے پھانسیوں پر عملدرآمد پر عائد پابندی ختم کر دی تھی جس کے بعد اب تک سات مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

14 دسمبر 2003ء کو راولپنڈی میں جھنڈا چیچی پل پر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے مقدمے میں فوجی عدالت نے نیاز محمد سمیت چھ مجرموں کو سزائے موت سنائی تھی جن میں عدنان رشید بھی شامل تھا۔

عدنان رشید کو اپریل 2012ء میں طالبان شدت پسندوں نے بنوں جیل پر حملہ کر کے فرار کروا لیا تھا جب کہ اسلام الدین شیخ عرف عبد السلام صدیقی کو اگست 2005ء میں پھانسی دے دی گئی تھی۔

نیاز محمد ہری پور کی جیل میں قید تھا جہاں اس کی اپنے رشتے داروں سے آخری ملاقات کروائی گئی اور منگل کو رات دیر گئے اسے پشاور جیل منتقل کیا گیا اور سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ کی صبح چھ بج کر چالیس منٹ پھانسی دی دے گئی۔

پاکستان میں 2008ء سزائے موت پر عملدرآمد معطل چلا آرہا تھا لیکن وزیراعظم کی طرف سے رواں ماہ اس پابندی کو ختم کیے جانے کے بعد اقوام متحدہ اور یورپی یونین سمیت متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

لیکن وزیراعظم سمیت حکومتی عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں کہ قانون کے مطابق دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت پانے والے قیدیوں کی سزاؤں پر عملدرآمد انسداد دہشت گردی کے لیے کی جانے والی فیصلہ کن کارروائیوں کا حصہ ہے۔

XS
SM
MD
LG